جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

حدیقہ کیانی نے اپنی طلاق کی وجہ بتادی

datetime 14  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)خوش شکل اور خوش لباس حدیقہ کیانی کا شمار پاکستان میں پاپ موسیقی کی گنی چنی کامیاب گلوکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے ہم عصر مرد گلوکاروں کو فن کے میدان میں بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ حدیقہ کیانی نے ایک انٹرویو میں اپنی نجی زندگی سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے۔روایتی آلات موسیقی اور جدید میوزک کے دلآویز امتزاج سے گلوکارہ حدیقہ کیانی 1995ء  سے 2017ء  تک مسحور کن

آواز اور مدھر دھنوں سجے اپنے البمز ’راز، روشنی، رنگ، رف کٹ، آسمان اور وجد‘ سے اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔نفسیات کی ڈگری رکھنے والی نرم دل اور حساس حدیقہ کیانی نے کئی مقامی اور عالمی ایوارڈز اپنے نام کیے ہیں، اْن کے نغمے زبان زد عام ہیں اور پاپ موسیقی کے ساتھ ساتھ علاقائی دھنوں پر بھی انہیں کمال مہارت حاصل ہے۔حدیقہ کیانی کی والدہ 2006ء  سے فالج کی مریضہ ہیں اس لیے وہ اپنی والدہ کے ہمراہ رہتی ہیں اور ان کی خدمت میں جتی رہتی ہیں۔ 2005ء  کے خوفناک زلزلے کے دوران انہوں نے ایدھی فائونڈیش سے ایک بچہ گود لیا تھا اور ناد علی کی پرورش میں کوئی کسر نہیں اْٹھا رکھی۔ثمینہ پیر زادہ کے پروگرام میں دوران گفتگو اپنی ازواجی زندگی کے حوالے سے حدیقہ کیانی نے بتایا کہ بچے کو گود لینا میری زندگی کا سب سے حسین تجربہ تھا اور میں اپنے بیٹے ناد علی کے لیے بہت حساس بھی ہوں۔حدیقہ کیانی نے مزید کہا کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ ناد علی کی پرورش میں کوئی کمی رہے، اسے باپ کا پیار بھی ملنا چاہیے اور دستاویز میں بھی ایک سرپرست کا ہونا ضروری تھا اس لیے میں نے فوری طور برطانوی تاجر سے شادی کی۔معروف گلوکارہ نے اپنی زندگی کے اہم موڑ سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ بدقسمتی سے میرے توقعات پوری نہیں ہوسکیں اور میرا مقصد یعنی ناد علی کو باپ کا پیار اور سرپرستی ملنا پورا نہیں ہوسکا تو میں نے خلع لے لی اور اب میں اپنی ماں اور بیٹے کے ہمراہ ایک خوشگوار زندگی جی رہی ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…