ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

چمپینزی اور لنگور بھی شراب نوشی کے شوقین

datetime 10  جون‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک) ایک نئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ صرف انسان ہی شراب نوشی کے شوقین نہیں ہوتے بلکہ جانوربھی شراب نوشی کے شوقین ہوتے ہیں جیساکہ چمپینزی اور لنگور بھی شوق سے شراب نوشی کرتے ہیں۔رائل سوسائٹی اوپن سائنس نامی رسالے میں شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی افریقا کے ملک گنی میں چمپینزیز اور لنگوروں پر کی جانے والی تحقیق میں پہلی بار ان جانوروں کو ’رفیا پام‘ نامی درختوں میں پائی جانے والے نشہ آور مشروب کو پیتے ہوئے پایا گیا جب کہ مادہ چمپینزیز کو سب سے زیادہ شراب نوشی کا شوقین پایا گیا۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مشاہدے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بہت سے لنگور دیر تک یہ مشروب پیتے رہے اور شراب کی ایک بوتل جتنا مشروب پینے کے بعد ان میں واضح طور پر اس کے اثرات دکھائی دیئے اور وہ جلد ہی مدہوش ہو کر سو گئے، چمپینزیز بھی گروہوں کی شکل میں اس درخت کے پتوں کو چوستے پائے گئے۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر کمبرلی ہاکنگز کے مطابق کچھ لنگوروں نے تو 85 ملی لیٹر الکحل پی جو شراب کی تقریباً ایک بوتل کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شراب نوشی کے چمپینزیوں پر واضح اثرات بھی دکھائی دیئے اور ان میں سے کچھ تو یہ پیتے ہی مدہوش ہوگئے۔سینٹ اینڈیوز یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھرین ہوبیٹر کا کہنا ہے کہ اس رویے پر مزید اور جامع تحقیق شاندار بات ہوگی تاہم تحقیق کے نتائج جو بھی ہوں یہ بات طے ہے کہ 60 برس کی تحقیق کے بعد بھی یہ چمپینزی ہمیں مسلسل حیران کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…