پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سعودی بلاگر کو ایک ہزارکوڑے مارنے کی سزاکیوں ملی ،جانیئے کیوں

datetime 7  جون‬‮  2015 |

ریاض(نیوزڈیسک)سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے بلاگر رائف بداوی کو سنائی گئی دس سال قید اور ایک ہزار کوڑے مارنے کی سزا برقرار رکھی ہے۔بداوی کو یہ سزا گذشتہ سال مئی میں توہین مذہب کے الزام میں سنائی گئی تھی جس پر جزوی طور پر عمل درآمد بھی ہوا تھا۔
بلاگر کی سزا: ’دنیا ہمارے معاملے میں دخل نہ دے‘رواں برس کے آغاز میں جدہ کی ایک مسجد کے باہر رائف بداوی کو پہلی قسط میں 50 کوڑے مارے گئے تھے جس پر عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔اس عالمی تنقید کے بعد پہلے تو ان کی سزا پر عمل درآمد کئی بار ملتوی کیا گیا اور پھر سعودی شاہ کے دفتر نے سزا پر نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔تاہم اب سعودی سپریم کورٹ نے انھیں دی گئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ابتدائی طور پر بداوی کو ایک ہزار کوڑے 20 ہفتوں کے دوران مارے جانے تھے تاہم اب تک انھیں صرف 50 کوڑے ہی مارے گئے ہیں۔رائف بداوی کی سزا پر عالمی برادری کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھابداوی کی اہلیہ انصاف حیدر اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بداوی کو ایک ہزار کوڑے مارے گئے تو وہ مر سکتے ہیں۔بداوی نے سنہ 2008 میں سعودی عرب میں لبرل سعودی نیٹ ورک کے نام سے ایک آن لائن فورم تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب میں مذہبی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔ یہ آن لائن فورم اب بند ہے۔سنہ 2012 میں بداوی کو گرفتار کیا گیا اور ان پر الیکٹرونک چینلز کے ذریعے ’اسلام کی توہین‘ اور ’تابع فرمانی کی حدود سے تجاوز‘ کے الزامات عائد کیے گئے۔ان پر ارتداد کا الزام بھی لگایا گیا لیکن سنہ 2013 میں انھیں اس الزام سے بری کر دیا گیا تھا۔ اگر یہ الزام ثابت ہو جاتا تو انھیں موت کی سزا دے دی جاتی۔سعودی حکومت ماضی میں اس بات پر ’حیرت اور افسوس‘ کا اظہار کر چکی ہے کہ عالمی میڈیا ’اسلام کی توہین‘ کرنے پر سعودی بلاگر کو ملنے والی سزا پر نکتہ چینی کر رہا ہے۔اس معاملے پر اپنے پہلے سرکاری بیان میں سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ سلطنت اپنےاندرونی معاملات میں ہر قسم کی بیرونی مداخلت کو مسترد کرتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…