جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

راکٹ کے حصوں کااستعمال دوبارہ, ایئربس کا۔۔۔۔۔۔

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک) ایئربس نے جو یورپ کے آریانے راکٹ کو بنا رہی ہے، ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جس سے مستقبل کی گاڑیاں جزوی طور پر دوبارہ استعمال کی جا سکیں گی۔اس سسٹم کو ایڈلین کا نام دیا گیا ہے اور اس میں بوسٹر کے مرکزی انجن اڑ کر واپس زمین پر آ جائیں گے۔واپس آنے والی مشینری کو دوبارہ تیار کیا جائے گا اور اسے دوسرے مشن کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ایئربس کا کہنا ہے کہ وہ اس تصور پر 2010 سے کام کر رہی ہے اور اس نے اس پر تجربات بھی کیے ہیں۔ایئربس کو امریکی سپیس ایکس اور یونائیٹڈ لانچ الائنس کی طرف سے کافی مقابلے کا سامنا ہے کیونکہ یہ دونوں بھی دوبارہ استعمال کیے جانے والے راکٹ بنانے پر کام کر رہی ہیں۔ اس کے بعد اس صنعت میں راکٹ کی قیمت میں کمی آ جائے گی۔ایئربس نے حال ہی میں نیکسٹ جینیریشن آریانے راکٹ بنانا شروع کیا ہے۔ حالیہ ڈیزائن میں حصوں کو دوبارہ اکٹھا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کمپنی کا کہنا ہے کہ جلد ہی ایڈلین کا تصور اس میں شامل کیا جائے گا۔کمپنی کے انجینیئروں کو یقین ہے کہ ایڈلین کو کسی بھی لانچر میں، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، لگایا کیا جا سکتا ہے۔اس پراجیکٹ پر 2010 سے کام ہو رہا ہےیہ ایک پروں والے خلائی جہاز کے الگ ہونے والے حصے کی مانند ہوتا ہے اور اسے راکٹ کے نچلے حصے میں نصب کیا جاتا ہے۔اس کے اندر مرکزی انجن اور باقی برقیات ہوتی ہیں جو کہ سبھی راکٹوں کے سب سے اہم حصے ہوتے ہیں۔یہ حصہ مشن کو پیڈ سے اوپر عام طریقے سے اٹھائے گا لیکن اس کے بعد یہ اس سے علیحدہ ہو جائے گا۔اس کے بعد ایڈلین موڈیول کا اگلا قدم زمین کی فضا میں دوبارہ داخل ہونا ہوگا۔ اس کے لیے اس کے سامنے والے حصے پر ایک حفاظتی شیلڈ لگائی جائے گی۔نیچے آتے وقت ایڈلین اپنے چھوٹے پر کھولے گا اور رن وے کی طرف آنا شروع کر دے گا۔اس کے چھوٹے پروپیلر اسی طرح کام کریں گے جس طرح ڈرون کے کرتے ہیں۔ایئربس کا منصوبہ ہے کہ ایڈلین نظام کو 2025 تک عمل میں لایا جائے جس کا مطلب ہے کہ ایسا آریانے 6 کی نئی پرواز کے پانچ سال بعد ہو گا۔اگر ایسا ہو جاتا ہے تو آریانے پر آنے والی لاگت کا 30 فیصد بچایا جا سکتا ہے۔ایڈلین موڈیول بالکل بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں کی طرح ہی اڑتا ہے کیلیفورنیا کی سپیس ایکس پہلے ہی فلوریڈا میں راکٹ ریکوری سسٹم پر ٹرائل کر رہی ہے۔

150605165945_rocket111

اس کا طریقہ ایئربس سے ذرا مختلف ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ پہلی سٹیج کا بوسٹر، پروپیلنٹ ٹینکس اور باقی سب چیزیں بھی بچائی جا سکیں اور انھیں دوبارہ استعمال کلیا جا سکے۔ماضی میں سپیس ایکس اپنے فیلکن راکٹ کو عمودی طریقے سے تیرتے ہوئے کشتی نما حصے پر اتارنے کے بالکل قریب پہنچنے کی کم از کم پہلی کنٹرولڈ سٹیج تک پہنچ گیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…