منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھارت کی عدالت نے ہندو انتہا پسندوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ، گائے کی ترسیل کے شبے میں 55 سالہ مسلمان کو قتل کرنے والے 6 ملزمان بری

datetime 15  اگست‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن ) بھارت کی عدالت نے گائے کی ترسیل کے شبے میں 55 سالہ مسلمان کو قتل کرنے والے 6 ملزمان کو بری کردیا۔ پولیس نے پہلو خان کے قتل کے الزام میں 9 ہندو گئو رکشکوں کو گرفتار کیا تھا۔واضح رہے کہ اپریل 2017 میں بھارت کی مغربی ریاست راجستھان کے شہر الوار کی ایک شاہراہ پر مویشیوں سے لدا ٹرک لے جانے والے 55 سالہ پہلو خان پر تقریباً 200 مشتعل افراد نے حملہ کرنے انہیں شدید زخمی کیا۔

جن کی تاب نہ لاتے ہوئے پہلو خان ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔راجستھان کی عدالت نے قتل کے الزام میں زیرحراست 9 میں سے 6 گئورکشکوں کو بری کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق دیگر 3 ملزمان نابالغ ہیں جن کا مقدمہ جووینائل کورٹ میں چلایا جائیگا۔دوسری جانب پہلو خان کے اہلخانہ کے وکلا نے بتایا کہ مقامی عدالت کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چینلج کیا جائیگا۔اس حوالے سے پولیس نے بتایا کہ حملے کے وقت وہاں موجود افراد کی جانب سے بنائی گئی اور میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیو فوٹیج کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ دو ماہ قبل امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے رپورٹ جاری کی تھی جس میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں اقلیتوں کے خلاف مذہبی تشدید میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔اکثریتی ہندو آبادی کے ملک بھارت میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے جبکہ ملک کی کئی ریاستوں میں اس کے ذبح کرنے پر پابندی ہے، جبکہ 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی شمالی اور مغربی ریاستوں میں انتہا پسندوں کے گروہ شاہراہوں سے لے جائے جانے والے مویشیوں کے ٹرکوں کی خود ساختہ نگرانی کر رہے ہیں، تاکہ ذبح کرنے کے غرض سے جانوروں کی ترسیل کرنے والے افراد کی نشاندہی کی جاسکے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پولیس نے حملے میں بچ جانے والے 11 افراد کو بھی گائے کے تحفظ سے متعلق ریاستی قانون کے تحت گرفتار کیا۔

پہلو خان کی ہلاکت کی بازگشت بھارت کے ایوان بالا میں بھی سنائی دی، جہاں اپوزیشن اراکین نے بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔خیال رہے کہ گذشتہ دو سال کے دوران گائے اسمگل کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے واقعات میں متعدد مسلمانوں کو قتل کردیا گیا۔2015 میں بھی ایک مسلمان شخص کو اس کے پڑوسیوں نے اس شبے میں قتل کردیا تھا کہ اس نے گائے کو ذبح کیا ہے تاہم بعد ازاں پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول کے گھر سے برآمد ہونے والا گوشت بکرے کا ہے۔گزشتہ ماہ بھی راجستھان میں ہندو انتہا پسندوں نے ہوٹل منیجر پر گاہکوں کو گائے کا گوشت پیش کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں سمیت بڑی اقلیتی آبادی کے لاکھوں افراد گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…