منگل‬‮ ، 19 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایرانی طلبہ کو عسکری ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے سے روکا جائے ، اسرائیلی ماہر

datetime 15  جولائی  2019 |

تل ابیب (این این آئی)میزائل امور کے ایک اسرائیلی ماہر نے کہاہے کہ ایرانی طلبہ کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے سے روکا جائے تا کہ وہ جدید عسکری ٹیکنالوجی سیکھ کر اسے اپنے ملک منتقل نہ کر سکیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیلی ماہر عوزی روبن نے کہاکہ ایرانیوں کی جانب سے اْس طریقے کار کا تجزیہ کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے مغرب اپنی جنگوں کو لڑتا ہے۔ انہوں نے ہر ممکنہ مفروضے کے واسطے

مانع اقدامات وضع کیے ہوئے ہیں ، ایرانی فوجوں کے خلاف نہیں لڑتے بلکہ وہ معاشروں کے خلاف نبرد آزما ہوتے ہیں۔ ان کا مقصد اس معاشرے کو شکست دینا ہوتا ہے جو اپنی فوج کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے۔ایران کی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے روبن نے کہا کہ تہران نے ایرانی کردستان پارٹی کے صدر دفتر پر حملے میں طویل مار کے میزائلوں کا استعمال کیا۔ اگرچہ ایک چوتھائی میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے تاہم بقیہ میزائل اپنی منزل تک پہنچے اور انہوں نے مذکورہ پارٹی کے میٹنگ روم کو نشانہ بنایا۔ ایران کے پاس اچھی انٹیی جنس ہے اور اس کا یہ ٹکنالوجی استعمال کرنا انتہائی متاثر کن امر ہے۔ڈرون طیاروں کے استعمال کی حکمت عملی کے حوالے سے اسرائیلی ماہر نے واضح کیا کہ یہ ٹکنالوجی سستی ہے اور نیچی پرواز کرنے کے سبب ان کا ریڈار کی نظر میں آنا مشکل ہوتا ہے۔ ایرانیوں کی جانب سے میزائل سسٹم پر حملے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ سسٹم غیر مامون شمار ہوتے ہیں۔تیل کی پائپ لائنوں کو نشانہ بنانے کے امکان کے حوالے سے روبن کا کہناتھا کہ اگر یہ (تیل کی پائپ لائن) 100 کلو میٹر کی دوری پر ہے تو اسے نشانہ بنانے کے لیے بہت زیادہ رابطہ کاری اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ڈرون کے بارے میں روبن نے مزید کہا کہ یہ ہتھیار اپنے طور پر ایک کمزور ٹکنالوجی شمار ہوتی ہے مگر اس کے استعمال کا طریقہ جدید سمجھا جاتا ہے۔اسرائیلی ماہر کے مطابق اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ ایران درحقیقت نیا سوویت یونین ہے۔ اس کے خلاف دباؤ اور اقتصادی دھمکی بہترین حکمت عملی ہے جیسا کہ سوویت یونین کے خلاف ہوا اور پھر اس کے بعد وہ ٹوٹ گیا۔روبن نے زور دیا کہ ایرانیوں کو عسکری پیش رفت کے ذریعے سے محروم کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے اْن ایرانی طلبہ کو

روکا جانا چاہیے جو بیرون ملک اعلی ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر اپنے وطن لوٹ جاتے ہیں۔ یہ اسی طرح ہو جیسے سرد جنگ کے دوران روسیوں کو بھی مغربی اداروں میں تعلیم کے حصول سے روکا گیا۔روبن نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ایک المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سمجھوتے نے دنیا میں سب سے زیادہ شدت پسند نظام کو قانونی حیثیت عطا کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تھینک گاڈ


برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…