بدھ‬‮ ، 08 اپریل‬‮ 2026 

امریکی سفارتخانے کی ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کا معاملہ، وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے کو مزیدگاڑیاں درآمد کرنے سے روک د یا

datetime 3  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آ ن لائن)امریکی سفارتخانے کی ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کا معاملہ، ایک ماہ گزر جانے کے باوجود پاکستانی حکام مبینہ گاڑی کی دستاویزات اور گاڑی کا سراغ لگانے میں ناکام،جبکہ قومی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے افراد کے خلاف بھی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی،دوسری جانب  وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے کو مزیدگاڑیاں درآمد کرنے سے روک د یاہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ نے یہ فیصلہ  امریکی سفارتخانے کی ایک ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کے حوالے سے میڈیا میں گزشتہ ماہ شائع ہونے والی خبر کے بعد کیا ہے۔اس معاملے کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے  امریکی سفارتخانہ سالانہ سینکڑوں گاڑیاں پاکستان درآمد کرتا ہے جن میں سے بیشتر گاڑیاں امریکی سفارتکار مشن مکمل ہونے کے بعد واپس امریکہ لے جاتے ہیں اوردیگر گاڑیاں وزارت خارجہ کی اجازت سے پاکستان میں ہی فروخت کر دیتے ہیں جبکہ ان میں چند گاڑیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ایسی ہی ایک گاڑی کے حوالے سے گزشتہ ماہ ایک خبر شائع  ہوئی تھی جس میں سال 2015میں ”لاپتہ“ ہونے والی امریکی سفارتخانے کی مبینہ گاڑی  اوراسکی درآمدگی کی دستاویزات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔2004ماڈل کی یہ ٹویوٹا کراؤن گاڑی 2015میں امریکی سفارتخانے نے درآمد کی تھی مگر اس کی درآمدگی کی دستاویزات وزارت خارجہ اور امریکی سفارتخانے کے حکام کی ملی بھگت سے غائب کر دی گئی تھیں۔دستاویزات میں وہ لیٹر بھی شامل تھا جس میں امریکی سفارتخانے کے نئے آنے والے ملازم جیک ایلن مورٹینسن کے نام پر مبینہ گاڑی کی درآمد کی اجازت طلب کی گئی تھی۔دستاویزات غائب کرنے کے عوض دفتر خارجہ کے پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کے افسران پر امریکی سفارتخانے نے ’ڈالروں‘کی بارش کی  اور انعام کے طور پر عروسہ مظہر نامی خاتون کو امریکی سفارتخانے کے شپنگ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت بھی دی۔

اس کے علاوہ اس کیس میں ملوث امریکی سفارتخانے کے ایک ملازم شیخ زبیر کو امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوا دیا گیاجبکہ اسی ڈیپارٹمنٹ کے دیگر چار ملازمین کو خصوصی مراعات سے نوازا گیااور انہیں بھی آنے والے دنوں میں امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوائے جانے کے امکانات ہیں۔واضح رہے کہ مبینہ گاڑی کی درآمد کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں مگر تاحال اس گاڑی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جو کہ متعلقہ اداروں خصوصاً دفتر خارجہ اور کسٹمز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ درآمد شدہ گاڑی  جسے چیک نہیں کیا گیا،اس میں ممکنہ طور پر جدید قسم کے جاسوسی کے آلات نصب ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے بھی مؤقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…