بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بھارت نے مسلمانوں پر ظلم کی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ہندوانہ نعرہ نہ لگانے پر مسلمان استاد کیساتھ افسوسناک سلوک کر دیا

datetime 25  جون‬‮  2019 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں مسلمانوں سے ہندوآنہ نعرے لگوانے اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے لیکن تاحال اس ضمن میں مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی جانب سے راست اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں جس کی وجہ سے جہاں انتہا پسند جنونی ہندوؤں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں تو وہیں اقلیتیں بالعموم اور مسلمان بالخصوص شدید احساس عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔

مغربی بنگال میں شرپسند ہندوؤں نے چلتی ٹرین سے ایک مدرسے کے معلم کو صرف اس لیے دھکا دے کر ’مبینہ‘ طور پر قتل کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے ’جے شری رام‘ کا ہندوآنہ نعرہ لگانے سے انکار کردیا تھا۔جنونیوں نے ہندوآنہ نعرے لگوائے اور شمس تبریز کی جان لے لی بسنتی کے رہائشی 26 سالہ حافظ محمد ساہ رخ ہلدار نے بھارتی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ گزشتہ روزان سے دوران سفر ٹرین میں سوارمسافروں نے مطالبہ کیا کہ وہ جے شری رام کا ہندوآنہ نعرے لگائیں لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں چلتی ٹرین سے دھکا دے کر نیچے پھینک دیا البتہ اس سے قبل انہیں مارا پیٹا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔مدرسے میں استاد کے فرائض سر انجام دینے والے حافظ محمد ساہ رخ کے مطابق ٹرین میں موجود افراد خود نعرے لگارہے تھے اور خواہش مند تھے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں جس سے میں نے انکارکیا۔ متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ ٹرین میں سے کسی نے تشدد کا نشانہ بنتے مسلمان نوجوان کی مدد نہیں کی البتہ جب وہ ٹرین سے گرے تو وہاں قریب موجود گاؤں کے افراد نے ان کی مدد کی۔چلتی ٹرین سے گرنے کے سبب انہیں زخم آئے ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق کولکتہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابھی واقعہ کی ’تصدیق‘ کررہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بھارتی پولیس نے جھار کھنڈ میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعہ پر بھی یہی مؤقف اپنایا تھا کہ وہ شمس تبریز کے ساتھ پیش آنے والے سانحہ کی تصدیق کررہی ہے جب کہ اس پر جان لیوا انسانیت سوز تشدد کی وڈیو وائرل ہوچکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…