منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے مسلمانوں پر ظلم کی کوئی کسر باقی نہ چھوڑی ہندوانہ نعرہ نہ لگانے پر مسلمان استاد کیساتھ افسوسناک سلوک کر دیا

datetime 25  جون‬‮  2019 |

نئی دہلی (آن لائن) بھارت میں مسلمانوں سے ہندوآنہ نعرے لگوانے اور انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کا نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے لیکن تاحال اس ضمن میں مرکزی یا ریاستی حکومتوں کی جانب سے راست اقدامات سامنے نہیں آئے ہیں جس کی وجہ سے جہاں انتہا پسند جنونی ہندوؤں کے حوصلے بڑھ رہے ہیں تو وہیں اقلیتیں بالعموم اور مسلمان بالخصوص شدید احساس عدم تحفظ کا شکار ہورہے ہیں۔

مغربی بنگال میں شرپسند ہندوؤں نے چلتی ٹرین سے ایک مدرسے کے معلم کو صرف اس لیے دھکا دے کر ’مبینہ‘ طور پر قتل کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے ’جے شری رام‘ کا ہندوآنہ نعرہ لگانے سے انکار کردیا تھا۔جنونیوں نے ہندوآنہ نعرے لگوائے اور شمس تبریز کی جان لے لی بسنتی کے رہائشی 26 سالہ حافظ محمد ساہ رخ ہلدار نے بھارتی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ گزشتہ روزان سے دوران سفر ٹرین میں سوارمسافروں نے مطالبہ کیا کہ وہ جے شری رام کا ہندوآنہ نعرے لگائیں لیکن جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں چلتی ٹرین سے دھکا دے کر نیچے پھینک دیا البتہ اس سے قبل انہیں مارا پیٹا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔مدرسے میں استاد کے فرائض سر انجام دینے والے حافظ محمد ساہ رخ کے مطابق ٹرین میں موجود افراد خود نعرے لگارہے تھے اور خواہش مند تھے کہ میں بھی ان کا ساتھ دوں جس سے میں نے انکارکیا۔ متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ ٹرین میں سے کسی نے تشدد کا نشانہ بنتے مسلمان نوجوان کی مدد نہیں کی البتہ جب وہ ٹرین سے گرے تو وہاں قریب موجود گاؤں کے افراد نے ان کی مدد کی۔چلتی ٹرین سے گرنے کے سبب انہیں زخم آئے ہیں۔ بھارتی اخبار کے مطابق کولکتہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابھی واقعہ کی ’تصدیق‘ کررہی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بھارتی پولیس نے جھار کھنڈ میں پیش آنے والے انسانیت سوز واقعہ پر بھی یہی مؤقف اپنایا تھا کہ وہ شمس تبریز کے ساتھ پیش آنے والے سانحہ کی تصدیق کررہی ہے جب کہ اس پر جان لیوا انسانیت سوز تشدد کی وڈیو وائرل ہوچکی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…