ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قوم کو قرضوں میں جکڑ نے والے قومی مجرم ہیں،ان کے ساتھ اب کیا سلوک کیاجائیگا؟ وزیراعظم عمران خان نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا

datetime 17  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ کو بجٹ کی منظوری کے عمل میں متحرک کر دارادا کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ قوم کو قرضوں میں جکڑ کر ذاتی تجوریاں بھرنے والے قومی مجرم ہیں ان سے مجرموں والا سلوک کیا جانا چاہیے،پاکستان تحریک انصاف نے جب حکومتی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک بدترین مالی مشکلات کا شکار تھا،مشکل حالات میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور

چین جیسے دوست ممالک کی جانب سے تعاون کے مشکور ہیں۔ پیر کووزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا پارلیمنٹ ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم نے اراکین اسمبلی کو بجٹ کی منظوری کے عمل میں متحرک کردار ادا کرنے کی تاکید کی،انہوں نے کہاکہ بجٹ پر بحث کے دوران اپوزیشن کی جانب سے اسمبلی کی کاروائی میں دانستہ طور پر خلل ڈالنے کی کوشش افسوس ناک ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ موجودہ حکومت نے اپنے دور اقتدار کے پہلے دس مہینوں میں مشکل ترین حالات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف نے جب حکومتی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک بدترین مالی مشکلات کا شکار تھا۔ انہوں نے کہاکہ مشکل حالات میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین جیسے دوست ممالک کی جانب سے تعاون کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومتوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا۔ انہوں نے کہاکہ ملکی آمدن کا تقریبا آدھا حصہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے میں صرف ہو رہا ہے، ماضی کے حکمرانوں نے بیرونی قرضوں پر شاہانہ طرز زندگی اختیار کیا۔ انہوں نے کہاکہ محض دس سالوں میں چوبیس ہزار ارب قرضوں میں اضافہ کیا گیا جس کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا گیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ قوم کو قرضوں میں جکڑ کر ذاتی تجوریاں بھرنے والے قومی مجرم ہیں ان سے مجرموں والا سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی عوام نے پی ٹی آئی کو اسٹیٹس کو کو توڑنے اور

کرپٹ عناصر کے خلاف فیصلہ کن جنگ کا مینڈیٹ دیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ حکومت کی کوششوں سے معاشی استحکام آیا ہے۔قبل ازیں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا اراکین کو موبائل اجلاس میں لے جانے کی اجازت نہیں تھی،اراکین نے اپنے موبائل باہر سیکیورٹی والوں کو جمع کرا دئیے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ پیر کو وزیراعظم قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے اور اپوزیشن کے احتجاج کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیر اعظم نے اراکین اسمبلی کو جارحانہ پالیسی اختیار کرنے کی ہدایت کی۔پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں پرویز خٹک، شیریں مزاری، شفقت محمود، عمر ایوب، شبلی فراز، عامر ڈوگر، مراد سعید،علی محمد خان، قاسم سوری، غلام سرور خان، فیصل واوڈا، علی زیدی ودیگر شامل ہوئے۔اجلاس میں تحریک انصاف کے پارلیمنٹرینز کے علاوہ جماعتوں کی بھی نمائندگی۔شیخ رشید احمد اور اقبال محمد علی نے اجلاس میں خصوصی طورپر شرکت کی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بجٹ اجلاس اور ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…