منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ترک حکمراں جماعت میں ایردوآن کے خلاف بغاوت کا آتش فشاں پھٹنے کا دعویٰ

datetime 10  جون‬‮  2019 |

واشنگٹن(این این آئی)معروف امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ تْرکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی بعض آمرانہ پالیسیوں اور فرد واحد کے فیصلوں سے ان کی اپنی جماعت آق میں پھوٹ پڑنے اور جماعت کے بعض رہ نمائوںکی جانب سے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی کوششوں کی خبریں اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ میں تواترکے ساتھ آ رہی ہیں۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ترکی کی حکمراں جماعت

انصاف و ترقی میں صدر طیب ایردوآن کے خلاف بغاوت کا لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔اخباری رپورٹ کے مطابق ترک صدر کے خلاف ان کی جماعت میں بغاوت کی افواہیں اس وقت مزید تیز ہوگئیں جب جماعت کے ایک سابق سینئر رْکن نے طیب ایردوآن کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا کہ اگر انہوں نے اپنی آمرانہ روش ترک نہ کی تو اس کے نتیجے میں آق پارٹی میں پھوٹ پڑسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق رواں سال آق پارٹی کو سخت نوعیت کے اقتصادی دبائو کا بھی سامنا ہے۔ رواں سال مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میںآق کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس نے ایردوآن کی پوزیشن مزید کمزور کردی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ایردوآن کے ناراض ساتھی جن میں سابق صدر اور سابق وزیراعظم شامل ہیں ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ نئی جماعت صدر طیب ایردوآن کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرے گی۔گذشتہ مارچ میں جب استنبول بلدیہ کے انتخابات میں اپوزیشن جماعت کے لیڈر کو میئرکے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تو صدر طیب ایردوآن اور ان کی جماعت کو یہ کامیابی گوارہ نہیں ہوسکی۔ آق پارٹی نے استنبول بلدیہ کے انتخابات کالعدم قرار دینے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے رواں سال جون میں استنبول میں دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے۔ حکمران جماعت کے اس غیر جمہوری طرز عمل پرعوام میں بھی سخت غم وغصہ پایا جا رہا ہے جس کا اظہار احتجاجی مظاہروں میں بھی ہوتا ہے۔جہاں تک صدر طیب ایردوآن پر تنقید کرنے والی اہم شخصیات اور پارٹی رہ نمائوں کی بات ہے تو اس میں سابق صدر عبداللہ گل اور سابق وزیراعظم احمد دائود اوگلو نمایاں ہیں۔ دونوں رہ نمائوں کا موقف

ہے کہ صدر ایردوآن آئین اور قانون کی بالادستی سے انحراف کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔ چند ہفتے پیشتر دائود اوگلو کاایک تفصیلی بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے ترکی کے نئے دستور جس میں ایردوآن کو مطلق اختیارات دیئے گئے ہیں پر شدید تنقید کی۔عبداللہ گل اورعلی بابا جان کے مقربین کا کہنا تھا کہ دونوں رہ نمائوں نے

ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ اس نئی سیاسی جماعت میں سابق وزراء بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ نئی سیاسی جماعت کا اعلان رواں سال کے موسم خزاں میں کیا جا سکتا ہے جس میں ایردوآن کیسابق قریبی ساتھی علی بابا جان ، عبداللہ گل اور احمد دائود اوگلو شامل ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…