بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

دفاعی بجٹ کو کم کرناآئی ایم ایف کا ہدف ،پروگرام  سے قبل  حکومت کے پیشگی  اقدامات  کا آغاز ہو چکا ہے،ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کے چونکادینے والے انکشافات

datetime 16  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام  سے قبل  حکومت کے پیشگی  اقدامات  کا آغاز ہو چکا ہے ڈالر کی قیمتوں کا معاملہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ڈالر  کی قیمت  بڑھنے سے دفاعی بجٹ بھی متاثر ہوتا ہے دفاعی بجٹ کو کم کرناآئی ایم ایف کا ہدف  ہے لیکن موجودہ  سیکیورٹی  صورتحال اور دہشتگردی کے باعث  دفاعی بجٹ  پر سمجھوتہ  نہیں کیا جا سکتا

موجودہ  این ایف سی ایوارڈ  کا ماڈل پاکستان  کی مالی مشکلات  کی بڑی وجہ ہے جبکہ ڈیڑھ سال تک درآمدات پر پابندی  لگانے سے اربوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔ جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر اشفاق احسن نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے قبل شرائط پوری کرنے کے لئے حکومت کے پیشگی اقدامات کے سفر کا آغاز ہو چکا ہے ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ بھی آئی ایم ایف پروگرام کے پیشگی پروگرام کا حصہ ہے آئی ایم ایف ترجیح اقدامات کی تکمیل کے بعد معاملہ بورڈ میں لے جائے گا انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے دفاعی بجٹ بھی متاثر ہو تا ہے دفاعی بجٹ کو کم کرنا آئی ایم ایف کا ہد ف ہے تمام شرائط اسی جانب اشارہ  کر رہی ہیں میرا ذاتی خیال ہے کہ دفاعی بجٹ کو کم کیا جا سکتا ہے لیکن موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے پیشے نظر دفاعی بجٹ پر کوئی ملک بھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا انہوں نے کہا آئی ایم ایف معاہدے میں بنیادی خودا نحصاری کی شرط موجود ہے ہمیں پرائمری خسارے سے پائیدار خو د انحصاری کی طرف جانا ہو گا ڈاکٹر اشفاق احسن نے کہا کہ ملک میں ہر سال 15 لاکھ نوجوان نوکری کی تلاش میں نکلتے ہیں معیشت 2.8 فیصد سے آگے بڑے گی تو روز گار کیسے ملے گا معیشت کی اس سست رفتاری سے تو غربت اور بے روز گاری بھی بڑے گی اگر پرتعیش اشیاء کی درآمدات ڈیڑھ سال کے لئے روک دی جائیں تو کوئی قیامت نہیں آ جائے گی جبکہ ان درآمدات پر پابندی لگانے سے اربوں ڈالر کی بچت ہو گی

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پہلے نہ جانے پر، اب آئی ایم ایف جانے پر شور مچا رہی ہے حکومت نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر کانٹے بہت زیادہ ہیں ان کانٹوں کا اثر عوام پر مہنگائی کے ذریعے ہو گا مشیر خزانہ خود کہ رہے ہیں کہ بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ڈاکٹر اشفاق احسن نے کہا کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ بھی مالی مشکلات کی ایک بڑی وجہ ہے آئی ایم ایف کہتا ہے کہ وفاق اور صوبے این ایف سی کا حل نکالیں محصولیات کی زمہ داری صوبوں تک منتقلی نا گزیر ہے پاکستان میں جو این ایف سی ماڈل ہے وہ دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…