پیر‬‮ ، 02 مارچ‬‮ 2026 

پاکستانی معیشت کی تباہی کی داستان 1985 سے شروع، ن لیگ بتائے 14 سے 15 ہزارارب کا قرضہ کہاں خرچ کیا ؟مطالبہ کردیا گیا

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن ) وفاقی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا ہے کہ معیشت کی تباہی کی داستان 1985 سے شروع ہوئی ۔مسلم لیگ ن بتائے کہ 14 سے 15 ہزارارب روپے کا قرضہ کہاں خرچ کیا ۔موجودہ حکومت مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس گئی ۔دعا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ یہ آخری پروگرام ہو گا ۔

اگر سابق حکومت اتنی ہی قابل تھی تو سٹیل ملز ، پی آئی اے اور پاکستان پوسٹ جیسے قومی ادارے تباہ کیوں ہوئے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمد خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے مہنگائی ختم نہیں ہو گی اور نہ ہی مہنگائی اچانک ختم ہو سکتی ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے میں کچھ وقت لگے گا جبکہ آئی ایم ایف پروگرام سے معیشت کو استحکام ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس مجبوری میں گئی۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لئے کوئی بھی خوش نہیں تھا ۔دعا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ یہ قرض کاآخری پروگرام ہو گا ۔علی محمد خان نے کہا کہ معیشت کی تباہی کی داستان 1985 سے شروع ہوئی۔ مسلم لیگ ن بتائے کہ 14 سے 15 ہزار ارب روپے کا قرضہ کہاں لگایا ۔گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی باعث ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ۔سابقہ حکومتوں کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام لینے کے باوجود معیشت بہتر کیوں نہ ہوئی اور آئی ایم ایف کے پاس دوبارہ جانے کی ضرورت پیش آنا سابقہ حکومتوں کی ناکامی ہے۔ اگر سابقہ حکومتیںاتنی ہی قابل تھی تو پاکستان سٹیل ملز ، پی آئی اے اور پاکستان پوسٹ جیسے قابل فخر قومی ادارے تباہی کے دہانے پر کیوں پہنچ گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…