اسلام آباد (آن لائن) بیرونی ممالک میں سفیروں اور قونصل جنرل کی تعیناتی سے متعلق حتمی فیصلہ کیلئے وزیر اعظم نے مشاورت کیلئے وزیر خارجہ کو طلب کرلیا۔ وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ بیرونی ممالک میں سفیروں اور قونصل جنرل کی تعیناتی کافیصلہ کرنے سے قاصرہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بیرونی ممالک میں سفیروں اور قونصل جنرلز کی تعیناتی کے حتمی فیصلے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے تفصیلات طلب کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت، چین، جاپان، جنیوا، نیویارک، فرینکفرٹ اور اہم افریقی ممالک سمیت 25سے زائد اہم بیرونی ممالک میں سفیروں اور قونصل جنرل کی تعیناتی کا فیصلہ گزشتہ نوماہ سے التوا ء کاشکارہے ۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمدفیصل کہتے ہیں کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے کام ہورہا ہے جلد فیصلہ کردیا جائے گا۔ گزشتہ سال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے قیام سے لیکر اب تک اہم بیرونی ممالک میں سفیروں اور قونصل جنرل کی تعیناتی کا فیصلہ کرنے میں انتظامی جمود اور تناؤ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مابین اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے سفیرو ں کی تعیناتی کا فیصلہ التواء کو شکار رہا۔تاہم نئے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود کے تعینات ہونے کے بعد اس معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے، البتہ حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا، ذرائع کے مطابق تقریباً 25 سے زیادہ بیرونی ممالک میں سفیروں اور قونصل جنرل کی پوزیشن گزشتہ آٹھ ماہ سے خالی ہیں اور ابھی تک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ ان کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ ان اہم دارالخلافوں میں اتنی زیادہ عرصہ ہماری نمائندگی نہ ہونا ایک تشویشناک بات ہے۔ ٹوکیو، جنیوا، سنگاپور، کوالالمپور، نیویارک، فرینکفرٹ اور کئی دیگر ممالک بغیر سفیر یا قونصل جنرل کے کام کر رہے ہیں۔ پرتگال میں تقریباً دو سال سے کوئی سفیر تعینات نہیں کیا گیا ہے۔جبکہ چین میں تعینات پاکستانی سفیر کی مدت ملازمت میں دو مرتبہ توسیع کے بعد چین میں سفیر کی پوزیشن بھی خالی ہوجائے گی،
اسی طرح بھارت میں بھی پاکستانی ہائی کمشنر کی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ عرصے کے دوران انتہائی قابل افسروں کو نظر انداز کرکے قدرے جونیئر افسران کو ان پوزیشن پرتعینات کرنے پر اقرباء پروری کے الزامات بھی عائد جارہے ہیں۔ موجودہ حکومت کے قیام کے بعد اہم بیرونی ممالک میں پاکستانی سفیروں کی تعیناتی کا فیصلہ نومبر 2018میں کیا جانا تھا تاہم مئی 2019 ء تک یہ فیصلہ نہ ہوسکا۔ موجودہ حکومت کے بعد قیام کے بعد جاپان، فرینکفرٹ، بنگلہ دیش، نیویارک، بھارت سمیت 23 ممالک میں موجودہ حکومت سفارت خانوں کے سربراہ کا تعیناتی تعطل کا شکا ر رہی۔
بھارت، ملائیشیا، بنگلہ دیش، پرتگال، سنگاپور، ترکمانستان، تاجکستان، الجرئیریا، سوڈان، جاپان، زمبابوے، ایتھوپیا، کینیا، یونان اور جاپان شامل ہیں۔ جبکہ نیویارک، جنیوا اور فرینکفرٹ میں قونصل جنرل کی تعینات کو فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ چین میں تعینات پاکستانی سفیر کو دو مرتبہ مدت ملازمت میں توسیع دی جاچکی ہے، جبکہ حال ہی میں سہیل محمود کو سیکرٹری خارجہ تعینات کیے جانے کے بعد بھارت میں بھی پاکستانی ہائی کمشنر کی پوزیشن خالی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ کے مابین بیرونی ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانوں میں سفیر اور دیگر افسران کی تعیناتی کے معاملے میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث تعیناتی نہ ہوسکی۔