بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

شیخ رشید کی پھرتیاں ریلوے کو لے ڈوبیں! مہنگی ترین ٹرین جناح ایکسپریس شروع دن سے ہی خسارے کا شکار،قومی خزانے کوایک ماہ میں کتنا نقصان برداشت کرنا پڑا؟حقائق آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی

datetime 11  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دھابیجی ایکسپریس کے بعد جناح ایکسپریس بھی ناکام ۔ ایک ماہ کے دوران ساڑھے 14 کروڑ روپے کا خسارہ ۔ٹکٹوں کی فروخت کے لیے رکھا گیا آمدنی کا ہدف پورا نہ کر سکی۔ مہنگی ترین ٹرین شروع دن سے ہی خسارے کا شکار ہو گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق ٹکٹوں کی فروخت کی مد میں ایک ماہ کے دوران ریلوے کو 14 کروڑ 62 ہزار روپے کا خسارہ ہوا ۔

ٹکٹوں کی فروخت کی مد میں آمدنی کا ہدف 25 کروڑ 27 لاکھ 20 ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا۔ہدف پورا ہونے کے بجائے جناح ایکسپریس سے صرف 11 گیارہ کروڑ 26 لاکھ 58 ہزار کی آمدنی ہوئی۔ ایک ماہ کے دوران دو طرفہ سفر کے لیے 17 ہزار 332 مسافروں نے ٹکٹ حاصل کیے تھے جبکہ گزشتہ ماہ کے دوران سفر کے لیے 36 ہزار 288 مسافروں کی جناح ایکسپریس میں سفر کی گنجائش تھی۔ذرائع کے مطابق جناح ایکسپریس کا ٹکٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے مسافروں نے نئی ٹرین میں دلچسپی نہیں لی۔جناح ایکسپریس پاکستان ریلویز کی سب سے لگژری نان اسٹاپ ٹرین ہے جس کا کراچی سے لاہور پہنچنے کا وقت 16 گھنٹے کا ہے اور راستے میں تین جنکشنز حیدرآباد، روہڑی اور خانیوال پر ہی کچھ دیر کا قیام کرتی ہے۔پاکستان ریلویز کی وی آئی پی لگژری ٹرین نے 31 مارچ سے سفر کا آغاز کیا۔ نان اسٹاپ جناح ایکسپریس 12 ایئر کنڈیشنز بزنس کوچز پر مشتمل ہے جس میں ایک ڈائننگ کار بھی ہے جبکہ دو پاور پلانٹ بھی ٹرین کا حصہ ہیں۔جناح ایکسپریس کا کراچی سے روانگی کا وقت سہ پہر تین بجے کا ہے جو اگلی صبح ساڑھے سات بجے لاہور پہنچتی ہے جبکہ لاہور سے دوپہر ڈھائی بجے چلنے کے بعد اگلی صبح سات بجے کراچی پہنچ رہی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے کراچی سے دھابیجی جانے والی دھابیجی ایکسپریس افتتاح کے چند ماہ بعد ہی بند کردی گئی تھی۔صدر مملکت عارف علوی نے 31 اکتوبر 2018 کو دھابیجی ایکسپریس کا افتتاح کیا تھا جس کے حوالے سے ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مالی خسارے کے باعث دھابیجی ایکسپریس کو بند کردیا گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق کرایہ اور مسافر دونوں کم تھے جس کے باعث دھابیجی ایکسپریس کو بند کرنا پڑا۔کراچی کے ملازمت پیشہ افراد اور دیگر عام عوام دھابیجی ایکسپریس سے مستفید ہوتے تھے جس کی بندش کے بعد کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔یاد رہے کہ دھابیجی ایکسپریس اس سے قبل 2007 میں معطلی کی گئی تھی جس کے بعد وزیر ریلوے شیخ رشید نے ایک مرتبہ پھر اس کی بحالی کا اعلان کیا تھا تاہم وہ زیادہ عرصہ نہ چل سکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…