بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حکومت نے پوری وزارت خزانہ (اٹھا) کر آئی ایم ایف کے حوالے کر دی،بس کرنسی نوٹ بچ گئے ہیں‘ آپ اب۔ان پر بھی آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگاردے کی تصویر چھاپ دیں،ن لیگ نوازشریف کے ساتھ ایسا کیا کررہی ہے جو دنیامیں پہلی بار ہورہاہے؟جاویدچودھری کاتجزیہ‎

datetime 7  مئی‬‮  2019 |

آسٹریا کے کسی بادشاہ نے فٹ بال کھیلنے کا اعلان کر دیا‘ فوج نے اپنے بادشاہ کو جتوانے کیلئے موونگ گول پوسٹ بنا دیا‘ بادشاہ سلامت جس طرف ہٹ مارتے تھے گول پوسٹ موو ہو کر اس طرف چلا جاتا تھا اور یوں بادشاہ کی ہر ہٹ کا نتیجہ گول نکلتا تھا‘ یہ بھی کامیاب ہونے کی ایک تکنیک ہے‘ آپ گراؤنڈ بھی اپنا بنا لیں‘ آپ ٹیم بھی اپنی لے آئیں اور آپ آخر میں گول پوسٹ بھی اپنا لے آئیں آپ جس طرف ہٹ لگائیں گول پوسٹ اس طرف شفٹ ہو جائے اور بات ختم‘ پاکستان میں آج یہ تکنیک استعمال ہو رہی ہے‘

آئی ایم ایف پاکستان پر ٹرسٹ کرنے کیلئے تیار نہیں تھا‘ حکومت نے پوری وزارت خزانہ اٹھا کر اس کے حوالے کر دی‘ وزیر خزانہ بھی ان کا‘ گورنر سٹیٹ بینک بھی ان کا اور چیئرمین ایف بی آر بھی ان کا‘ بس کرنسی نوٹ بچ گئے ہیں‘ آپ اب ان پر بھی آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لاگاردے کی تصویر چھاپ دیں تا کہ کم از کم یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے لیکن سوال یہ ہے اگر اس کے بعد بھی اکانومی نہیں چلتی تو پھر ہمارے پاس کیا آپشن بچے گا‘ کیا ہم ملک کو دیوالیہ ڈکلیئر کر دیں گے‘ حکومت کو بہرحال سنجیدگی کے ساتھ اس سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا‘ دوسرا ہم سے معیشت نہیں سنبھل رہی‘ ہم نے یہ آئی ایم ایف کے حوالے کر دی‘کیا ہم کل کو مسئلہ کشمیر انڈیا کے حوالے کر دیں گے‘ ملک کی سیکورٹی امریکا کو دے دیں گے‘ پٹرول اور گیس کی ذمہ داری قطر اور سعودی عرب کو سونپ دیں گے‘ کیا ہم سڑکیں اور سمندر چین کو دے دیں گے‘ پی آئی اے ترکش ائیر لائن کے حوالے کر دیں گے اور کیا ہم بجلی کا نظام روس کے حوالے کر دیں گے‘ ہم سے آخر یہ بھی تو نہیں چل رہے‘ کیا آزاد ملکوں کی یہ اپروچ ہوتی ہے‘ جو نہ چلے اسے دوسروں کے حوالے کر دیں‘ ہمیں ایک بار‘ جی ہاں ایک بار اپنی اداؤں پر غور کرنا ہو گا ورنہ پھر ہمارے پاس دینے کیلئے بھی کچھ نہیں بچے گا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے لیڈرز اور کارکن میاں نواز شریف کو قافلے کی صورت میں جیل چھوڑنے جا رہے ہیں‘ دنیا میں لیڈرز کو قافلوں کی صورت میں جیل سے واپس لایا جاتا ہے‘ یہ دنیا میں پہلی بار ہو رہا ہے پارٹی اپنے لیڈر کو جلوس کی صورت میں جیل چھوڑنے جا رہی ہے‘ آخر اس کی کیا ضرورت تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…