بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

فتح اللہ گولن فائونڈیشن کالعدم تنظیم قرار ‘نو ٹیفکیشن جا ری پاک ترک انٹرنیشنل سی اے جی ایجوکیشن فائونڈیشن پر بھی پابندی عائد

datetime 1  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لا ئن )حکومت پاکستان نے فتح اللہ گولن کی فائونڈیشن پاک ترک کوکالعدم تنظیم قرار دیدیا وزارت داخلہ نے پاک ترک ایجوکیشن فائونڈیشن کوانسداددہشتگردی ایکٹ1997سیکشن 11بی کے تحت کالعدم قرار دینے کا نو ٹیفکیشن جا ری کر دیا ۔

تفصیلا ت کے مطابق وزارت داخلہ نے پاک ترک فائونڈیشن کوکالعدم تنظیم قراردیدیااورپاک ترک انٹرنیشنل سی اے جی ایجوکیشن فائونڈیشن پر پابندی عائد کردی ۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ پاک ترک ایجوکیشن فائونڈیشن کوانسداددہشتگردی ایکٹ کے تحت کالعدم قراردیاگیا۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہاگیا ہے کہ پاک ترک ایجوکیشن فائونڈیشن کے دہشتگردوں سے تعلق کے شواہدہیں ۔ فتح اللہ گولن کی فائونڈیشن نیکٹا کی فہرست میں 71ویں نمبر پر کا لعدم کی فہرست میں شامل ہے،اس حوالے سے حکومت پاکستان کی قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے فتح اللہ گولن کی دہشت گرد تنظیم کو شیڈول اول میں شامل کیا گیا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پا کستا ن نے 13دسمبر 2018کو گولن تنظیم کو دہشتگرد تنظیم قراردیا تھا جس کے بعد وزارت داخلہ نے 18اپریل کو نو ٹیفکیشن جاری کر دیا تھا ۔یاد رہے کہ جولائی 2016 میں ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد وہاں کی حکومت نے اس کا ذمہ دار امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کو قرار دیا تھا اور ان کے تمام اداروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

بعد ازاں ترک حکومت نے پاکستان سے بھی فتح اللہ گولن کے تمام اداروں کو بند کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا اور اس وقت کے ترک سفیر صادق بابر نے میڈیا کوآگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے تمام دوست ممالک سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ممالک میں گولن گروپ کی سرگرمیوں کو روکیں۔پاکستانی حکومت نے ترک حکام کی درخواست پر ان تمام اداروں کے خلاف کارروائی کی تھی اور پاک ترک اسکولوں کی انتظامیہ کو بھی تبدیل کر دیا تھا جس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔تاہم دسمبر 2018 میں سپریم کورٹ نے پاک ترک انٹرنیشنل کیگ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ فتح اللہ گولن اور ان کی دیگر تنظیموں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…