منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کی جانب سے بلاول کو صاحبہ کہنے پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا شدید احتجاج ،سپیکر ڈائس کا گھیرائو

datetime 25  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو صاحبہ کہنے پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرلیا ،بات کر نے کا موقع نہ دینے پر خواتین ارکان کی ڈپٹی اسپیکر سے تلخ کلامی بھی ہوئی ، ایوان ’’ گو عمران گو ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے واضح کیا ہے کہ اگر عمران خان نے الفاظ واپس نہ لئے تو پھر اسے اپنا وزیراعظم ماننے سے انکار کردونگی ،وزیراعظم خود آکر خواتین سے معافی مانگیں،اگر ایوان اور خواتین سے معافی نہیں مانگیں گے تو پھر گو عمران گو کے نعرے ہر جگہ گونجیں گے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دور ان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی خواتین نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کو ’’صاحبہ ‘ذکہنے پر بھرپور احتجاج کیا، دونوں جماعتوں کی خواتین ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرکے وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی اور ایوان ’گو عمران گو‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔اجلاس کے دور ان نکتہ اعتراض پر بات نہ کر نے کا موقع نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے پوائنٹ آف آرڈر دو کے نعرے لگائے ، اپوزیشن کے شدید شور شرابا کیا اور خواتین ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کرلیا ،اس موقع پر خواتین کی ڈپٹی اسپیکر سے تلخ کلامی ہوئی ۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے کہاکہ گزشتہ روز وانا کے علاقے میں وزیراعظم نے ایک نوجوان سیاست دان جو شہیدوں کا وارث ہے ،اسکو آپ نے صاحبہ سے مخاطب کیا۔ انہوں نے کہاکہ یہ صاحبہ کہنا بری بات نہیں لیکن یہ خواتین کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔

انہو ں نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں ہر فرد کی عزت ہے لیکن بلاول کی شخصیت کی صرف یہ تذلیل نہیں بلکہ گھسی پٹی سوچ کی عکاسی اور خواتین کی تذلیل ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ بات ہم نے یا پیپلز پارٹی کے ورکرز نے نہیں بلکہ خود صحافیوں سمیت سنجیدہ طبقات نے وزیراعظم کے کلمات کی مذمت کی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ وزیراعظم کے عہدے کی تذلیل ہے، اگر عمران خان نے الفاظ واپس نہ لئے تو پھر اسے اپنا وزیراعظم ماننے سے انکار کردونگی ۔ انہوںنے کہاکہ آپ کی زبان کتنی بار پھسلے گی؟ آپ مودی کیلئے جتنے کی بات کرتے ہیں پھر اسے سلپ آف ٹنگ کہیں ،انہوںنے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے وزیراعظم خود آکر خواتین سے معافی مانگیں، انہوںنے کہاکہ اگر ایوان اور خواتین سے معافی نہیں مانگیں گے تو پھر گو عمران گو کے نعرے ہر جگہ گونجیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…