منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

طالبان کاافغانستان بھر میں آپریشن فتح شروع کرنے کا اعلان، افغان حکومت کیلئے نیا مسئلہ کھڑا ہوگیا

datetime 12  اپریل‬‮  2019 |

کابل(آن لائن)امریکا اور افغان سیاستدانوں کی جانب سے طالبان سے امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود طالبان نے موسم بہار میں جارحانہ کارروائیوں کا اعلان کردیا۔ طالبان نے ایک بیان میں کہا گیا کہ ‘قبضے کے خاتمے’ اور ‘ہماری مسلمان سرزمین سے حملے اور بدعنوانی کا صفایا’ کرنے کے مقصد کے ساتھ افغانستان بھر میں آپریشن فتح کیا جائے گا۔سالانہ موسم بہار کی جارحیت روایتی طور پر نام نہاد لڑائی کے سیزن کا آغاز ہوتا ہے،

اگرچہ یہ اعلان بڑی علامت مانا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود حالیہ موسم سرما میں طالبان افغان اور امریکی فورسز سے لڑائی جاری رکھے ہوئے تھے۔طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ ‘ہماری جہادی ذمہ داری ابھی تک ختم نہیں ہوئی ہے، یہاں تک کہ ہمارے ملک کے بڑے حصوں کو دشمن سے آزاد کرالیا گیا لیکن اب بھی غیر ملکی قابض فورسز ہمارے اسلامی ملک میں عسکری اور سیاسی اثر و رسوخ کی مشق جاری رکھی ہوئی ہیں’۔دوسری جانب افغان وزارت دفاع کے ترجمان قیص مینگل کا کہنا تھا کہ طالبان کی موسم بہار کی جارحیت ‘محض پروپیگینڈا’ ہے۔انہوں نے کہا کہ ‘طالبان اپنے مذموم مقاصد کے حصول تک نہیں پہنچ سکے ہیں اور گزشتہ برسوں کی طرح ان کے آپریشنز میں انہیں شکست ہوگی’2018 میں سخت خون ریزی کے بعد حالیہ ہفتوں کابل میں پرتشدد واقعات میں کچھ کمی واقع ہوئی تھی لیکن پیر کو طالبان کی جانب سے شہر کے شمال میں ایئر بیس پر حملے میں 3 امریکی فوجی کو ہلاک کردیا گیا۔واضح رہے کہ صدر اشرف غنی کی جانب سے حال ہی میں اپنے موسم بہار کے آپریشن خالد کا اعلان کیا گیا اور طالبان نے اسے جواز کے طور پر استعمال کیا اور نئے آپریشن کا اعلان کردیا۔طالبان کی جانب سے کہا گیا کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ‘دشمن طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کا حصول اب بھی چاہتا ہے’۔یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ امریکا عسکریت پسندوں کے خلاف جاری طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان سے مذاکرات کے کئی دور کرچکا ہے۔

اس کے علاوہ افغان سیاست دان بھی ماسکو میں طالبان سے علیحدہ ملاقات کر چکے ہیں جبکہ کابل حکومت کے حکام اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا نیا دور رواں ماہ میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں متوقع ہے۔واضح رہے کہ طالبان کے خلاف جنگ کے آغاز کے 18 سال بعد بھی امریکا کے تقریباً 14 ہزار فوجی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ عسکریت پسندوں کی جانب سے بار بار یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان کا بہت حصہ خاص کر دیہی علاقے ان کے قبضے میں ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…