منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سابق ن لیگی وزیر شیخ روحیل اصغر گزشتہ حکومت میں 10ہزار بل ادا کرتے اب اتنے ہی استعمال پر 1کروڑ12لاکھ بل کیوں بھر رہے ہیں؟ فیصل واوڈاکرپشن کی نئی کہانی سامنے لے آئے

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی پروگرام میںگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ( ن) لیگ کے ایم این اے اور سابقہ حکومت کے وزیرشیخ روحیل اصغر گزشتہ حکومت میں صرف دس ہزار روپے بل دیا کرتے تھے جبکہ اب وہ اتنے ہی استعمال پر ایک کروڑ بارہ لاکھ روپے بل ادا کرتے ہیں۔

آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ اتنا زیادہ بل ادا کرتے ہیں ،یہ ان کی کرپشن ہے۔وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ آپ گزشتہ حکومت کے ظلم کا اندازہ لگائیے کہ وہ کس قدر لوٹ مار کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بجلی ،گیس اور دوسری چیزوں پر بھی ہمیں قرضوں کے بوجھ تلے ڈال کر چلے گئے ہیں۔اب ہم وہ قرضہ اتاریں یا عوام کو ریلیف دیں۔بہرحال حکومت سسٹم کی بہتری میں لگی ہوئی ہے پہلے ہم قرض اتار لیں پھر عوام کو بھی ریلیف دینے کی کوشش کریں گے اور آہستہ آہستہ وہ وسائل بھی اکٹھے ہو رہے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے عام آدمی کی صورت حال بہتر ہو گی اور ملک میں روزگار کے بھی مواقع پیدا ہوں گے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کے وزرا کی عیاشیاں اس قدر تھیں جس نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے ادھ موا کر ڈالا ہے اور اس سے نپٹنے کے لیے ہمیں سخت اقدامات کرنا ہیں جو کہ ہم کر رہے ہیں۔شیخ روحیل اصغر تو ایک کیس ہے جو ایک کروڑ کے بل کی جگہ دس ہزار روپے کا بل دیتا تھا اس قسم کی کئی اور ہوشربا کہانیاں منظر عام پر آنا بھی باقی ہیں۔واضح رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزیر فیصل واڈا نے انکشاف کیا تھا ہفتے دس دن میں ملک میں نوکریاں زیادہ ہو جائیں گی اور نوکریوں کے خواہش مند کم پڑ جائیں گے۔

چند ہفتوں میں حالات اتنے اچھے ہو جائیں گے کہ پان سگریٹ والے بھی آکر کہیں گے کہ آ ہم سے ٹیکس لے لو۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا غیب کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے، وہ غیب کا کچھ نہیں بتا سکتے، حمزہ شہباز کی گرفتاری کے معاملے کی منطق میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم ٹیکس میں تاجروں کو آسانیاں دیں گے تو پوری دنیا سے پاکستان بزنس آئے گا جب حکومت ترقی کے لئے سخت فیصلے لیتی ہے تو احتساب و ٹیکس کا نظام واضح کام کرتا ہے، اداروں کے اندر بھی ہم نے ن لیگ کے لوگ پکڑے ہیں جو حکومت کو کمزور کر رہے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…