جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اے ڈی بی کی سالانہ رپورٹ میں بھی برآمدات کے فروغ پر زور دیا گیا ہے : کارپٹ ایسوسی ایشن

datetime 6  اپریل‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین اعجاز الرحمان نے کہا ہے کہ برآمدات میں اضافے کیلئے ایمرجنسی کی طرز پر اقدامات نا گزیر ہو چکے ہیں اورایشیائی ترقیاتی بینک کی سالانہ رپورٹ میں بھی اس پر زور دیا گیا ہے ،ہیجان کی کیفیت کی وجہ سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس لئے حکومت فی الفور اسٹیک ہولڈرز کی کانفرنس بلا ئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈسٹری کو درپیش مشکلات اور رواں سال منعقدہ کارپٹ کی عالمی نمائش کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف ،سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک، ریاض احمد، سعید خان، اکبر ملک سمیت انڈسٹری سے وابستگی رکھنے والے دیگر افراد بھی موجود تھے۔ اعجاز الرحمان نے کہا کہ گو مگوں پر مبنی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میں کوئی بھی انڈسٹری ترقی نہیں کر رہی ،زبوں حالی کا شکار معیشت کو تجربہ گاہ بنانے سے گریز کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز سے کسی سطح پر رابطے نہیں کئے جارہے ، وزراء ، سیکرٹریز اور ایسوسی ایشنز کے درمیان مضبوط روابط کیلئے فوکل پرسنز تعینات کئے جائیں ۔حکومت اسٹیک ہولڈرز کی گول میز کانفرنس کر کے نہ صرف اپنی پالیسیوں سے آگاہ کرے بلکہ ان سے تجاویز لے کر ایک متفقہ ڈرافٹ مرتب کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مینو فیکچررز اور برآمدکنندگان کے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے ،نئی منڈیوں کی تلاش ،پاکستانی مصنوعات کی تشہیر اور مارکیٹنگ کیلئے حکومتی معاونت سے ایسوسی ایشنز کے وفود کو بیرون ممالک بھجوایا جائے ۔اعجاز الرحمان نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں منعقدہ کارپٹ کی عالمی نمائش کی کامیابی کے حوالے سے اپنی تجاویز سے آگاہ کریں تاکہ ان کا جائزہ لے کر عملی پیشرفت کا آغاز کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…