جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

پاکستان نے امریکہ سے کس خواہش کا اظہار کردیا؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا

datetime 25  فروری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ابوظہبی(آن لائن)امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنا راستہ تبدیل کرنے کا خواہشمند ہے اور مذہبی آزادی میں مداخلت کرنے والے ممالک کی امریکی بلیک لسٹ سے نکلنا چاہتا ہے۔عالمی مذہبی آزادی کے لیے امریکی سفیر سیم براؤن بیک نے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حال ہی بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے بعد اس حوالے سے بات چیت کے لیے

اسلام آباد کا دورہ کیا تھا جہاں اس کے سبب پاکستان پر مالی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 20 کروڑ سے زائد آبادی کے حامل پاکستان میں توہین مذہب پر سزائے موت کا قانون موجود ہے اور امریکا نے گزشتہ سال دسمبر میں مذہبی آزادی کی بلیک لسٹ میں پاکستان کے نام کو شامل کر لیا تھا البتہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے پاکستان پر پابندی لگانے کی مخالفت کی تھی۔براؤن بیک نے کہا کہ پاکستان کو مذہبی آزادی کے معاملے پر کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے لہٰذا میں وہاں تبدیلی کے حوالے سے بات کرنے کے لیے گیا تھا۔انہوں نے سوڈان میں ایک عرصے سے صدر کے عہدے پر فائز عمر البشیر کے خلاف احتجاج پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات اور سعودی عرب کے وعدوں پر، دونوں ممالک کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کو مذہب کے انتخاب کے حق کو محفوظ بنانے اور فروغ دینے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔اماراتی دارالحکومت ابوظہبی میں موجود براؤن بیک نے مزید کہا کہ یہ اقدامات کافی نہیں ہیں، البتہ یہ ضرور اہمیت کے حامل ہیں، نہ ہی یہ کامل ملک ہیں اور نہ امریکا لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہمیں لوگوں کو ایک عمل کا حصہ بنانے اور آگے بڑھنے کے عمل میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے پوپ فرانسس کے حالیہ دورے کے دوران ان کی شاندار انداز میں میزبانی پر بھی متحدہ عرب امارات کو سراہا، عیسائیوں کے مذہبی پیشوا نے پہلی مرتبہ جزیرہ نما عرب کا دورہ کیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسکولوں کی کتابوں کے نصاب کا جائزہ لینے پر بھی متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو سراہا۔ صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم متحدہ عرب امارات میں ’برداشت کا سال‘ منا رہے ہیں اور میں اس بات کو بہت

سراہتا ہوں کہ برداشت کے عمل میں بہتری آ ئی ہے، مذاہب کے درمیان احترام کی ضرورت ہے، انہیں ایک دوسرے کا احترام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ خدا کی تلاش کا بہترین طریقہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے براؤن بیک کو 2017 میں مذہبی آزادی کا سفیر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن انہیں 2018 میں اس عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…