جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آئندہ بجٹ کیلئے اسٹیک ہولڈرز سے تحریر ی تجاویز طلب کرنیکی بجائے مشاورتی سیشنز کا آغازکیا جائے : کارپٹ ایسوسی ایشن

datetime 24  فروری‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے چیمبرز ، ایسوسی ایشنز،مینو فیکچررز اور خصوصاًبرآمد کنندگان سے تحریر ی تجاویز طلب کرنے کی بجائے مشاورتی سیشنز کا آغازکرے ،خود مختاری کی منزل حاصل کرنے کیلئے مضبوط معیشت ناگزیر ہے۔

بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے حکومتی اخراجات میں مزید کمی اور اپنے وسائل پر انحصار بڑھایا جائے ،پاکستانی سفارتخانے برآمدات کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں اور آئندہ بجٹ میں اہداف پر مبنی موثر پالیسی کا اعلان کیا جانا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایسوسی ایشن کے جائزہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئرپرسن پرویز حنیف،ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین اعجاز الرحمان، ریاض احمد، سعید خان، میجر (ر)اخترنذیر، ملک اکبر اور کارپٹ انڈسٹری سے وابستہ دیگر نمائندے بھی موجود تھے۔ اجلاس میں کارپٹ انڈسٹری کو درپیش مشکلات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور ان کے حل کیلئے سفارشارت مرتب کرکے متعلقہ وزارتوں کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ عبداللطیف ملک نے کہا کہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اور انشا اللہ بھارت کو تجارتی محاذ پر بھی بھرپور جواب دیا جائے گا۔حکومت کی اقتصادی ٹیم آئندہ بجٹ کی دستاویز کو ترقی کا ٹول بنانے کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرزسے پیشگی مشاورت کا آغاز کرے اورسامنے آنے والی قابل عمل تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا موقف ہے کہ صنعتی زونزسمیت دیگر کاروبار ی اداروں کو چلانا نجی شعبے کا کام ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت سرپرستی اور معاونت بھی فراہم کرے ۔نجی شعبہ برآمدات کے فروغ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے اور انشا اللہ پاکستان جلد برآمدات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے مینو فیکچررز اوربرآمدکنندگان کو سہولیات اور مراعات کو بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ یہ اقدامات سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتے ہیں اور آنے والے سالوں میں انتہائی سود مند ثابت ہوں گے جس سے خود مختاری کی منزل مزید قریب آئے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…