منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

جس طرح میری بیوی بیٹی اوربہوکے ساتھ بدسلوکی کی گئی،کوئی غیرت مند آدمی یہ برداشت نہیں کرسکتا،آغا سراج درانی مشتعل، بڑا مطالبہ کردیا

datetime 22  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ اس اسپیکرکی کرسی کیساتھ کیاہوا،اس طرح کے کیسزمیں نے بہت بھگتے ہیں،جس طرح میری بیوی بیٹی اوربہوکے ساتھ بدسلوکی کی گئی،میرے بچوں کو سات گھنٹے گن پوائنٹ پر یرغمال رکھا گیا،کوئی غیرت مند آدمی یہ برداشت نہیں کرسکتا، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نیب اہل کاروں کے خلاف تحقیقات کریں،

میری گرفتاری کے بعد گھر پرچھاپہ مارنے کی روایت اچھی نہیں ہے۔جمعہ کوسندھ اسمبلی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اپنے پالیسی بیان میں آغا سراج درانی نے کہا کہ میرے خاندان کی ملک کے لئے قربانیاں ہیں،انکا رویہ ناقابل برداشت ہے،میں یہاں ہوتا مجھے گرفتار کرلیتے،گن پوائنٹ پر انہیں گالیاں دی گئیں۔انھوں نے کہا کہ میں اپنے بچے یہاں لاتا اور وہ آپ اپنے ساتھ ہونے والے معاملات سناتے تو آپ رو پڑتے،دنیا کو آپ نے کیا دکھایا ہے،ہم اسپیکر اور اسکے خاندان کا بھی یہ حشر کرسکتے ہیں۔آغاسراج درانی نے کہاکہ 1985 سے آج تک میرے تمام کاغذات تمام متعلقہ اداروں میں جمع ہیں،یہ اتنے دور ایک دن کے لئے مجھے گرفتار کرنے اسلام آباد آئے،میری گرفتاری کے بعد میرے گھر میں گھسنا یہ روایت بہت بری ہے،میراتعلق درانی قبیلے سے ہے،مجھے دکھ ہوا،کچھ لوگ یہاں بھی بیٹھے ہیں جنہوں نے میرے خلاف بولا،بولنے سے پہلے ثبوت تو ہوں۔انہیں ضرور کہوں گا کہ اپنے گریبان میں جھانکیں،آپ اپنے بیوی بچوں کو بھی دیکھیں،اگر ان کے ساتھ ایسا ہو تو،کیا یہ ہے نیا پاکستان ؟ آغا سراج درانی کے سامنے آتے تو بتاتا کس کے گھر آئے ہیں،میری گرفتاری کے بعد میرے گھر آئے،فیملی کو ساڑھے سات گھنٹے یرغمال بنایا،میں ابھی بھی سندھ اسمبلی کا اسپیکر ہوں،میں مجرم نہیں ہوں ملزم ہوں۔انھوں نے کہا کہ میرے خلاف کچھ ثابت نہیں ہوا، وزیراعلی سندھ سے درخواست ہے کہ تحقیقات کریں کون تھے وہ لوگ،مجھے کسی چیز کا افسوس نہیں،صرف اس چیئر کا خیال ہے،

اپنے بچے بھی اس چیئر پر قربان کرونگا،پھانسی پر چڑھائینگے چڑھا دیں،میری قیادت کو پھانسی پر چڑھا دیا۔آغاسراج درانی نے کہا کہ ہم بموں سے نہیں ڈرتے چھوٹی چھوٹی بندوقوں سے ڈراتے ہیں،وزیراعلی انکوائری کرائیں،اس ایوان میں رپورٹ پیش کرینگے،کیا میں دہشتگرد تھا،میں کسٹوڈین آف دی ہاؤس ہوں،میرے پاس بہت سارے قونصل جنرل کے پیغامات پڑے ہیں کہ کیا بتاؤں۔انہوں نے کہاکہ آپ پر منحصر ہے میرا ساتھ دیں یا نہیں، آپکی مرضی،مگر میری فیملی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر مجھے افسوس ہے۔میرے بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی اسکا مجھے حساب چاہئیے۔آغا سراج درانی تقریر کے دوران آبدیدہ ہوگئے۔انکی آواز بھر آئی۔اور انھوں نے گلوگیر لہجے میں اپنا خطاب جاری رکھا۔بعد ازاں سندھ اسمبلی میں آغاسراج درانی کی گرفتاری اور ان کے گھر پر چھاپے کے خلاف مذمتی قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ قرارداد میں وزیراعلی سندھ سے واقعے کی تفتیش کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…