منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکہ میں معمولی جرائم میں ملوث ملزمان کی عام معافی پر غور

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)نیویارک پولیس شہر میں معمولی جرائم میں ملوث 12 لاکھ سے زائد ملزموں کو عام معافی دینے پر غور کر رہی ہے، تاکہ ان کے محکمے اور شہریوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہو سکے۔ پولیس لائڑان افسران اور کونسل اراکین نیپولیس کمشنر کی اس تجویز کی حمایت کی ہے۔نیویارک پولیس ذرائع کے مطابق، یہ تجویز پولیس کمشنر ولیم برٹین نے دی ہے اور انھوں نے اپنی سفارشات منظوری کے لئے سٹی کونسل کو بھیج دی ہے۔ پولیس کمشنر سزاؤں میں کمی کے حامی رہے ہیں اور وہ چرس استعمال کرنے والوں پر جرمانے میں کمی لانے کے بھی حامی رہے ہیں،پولیس ذرائع کے مطابق، یہ تجویز پولیس کمشنر ولیم برٹین نے دی ہے اور انھوں نے اپنی سفارشات منظوری کے لئے سٹی کونسل کو بھیج دی ہے۔ پولیس کمشنر سزاؤں میں کمی کے حامی رہے ہیں اور وہ چرس استعمال کرنے والوں پر جرمانے میں کمی لانے کے بھی حامی رہے ہیں۔پولیس کمشنر نے یہ تجویز اپنے محکمے اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کے خاتمے کے لئے دی ہے، جس کے نتجے میں، حالیہ دنوں نیویارک میں پولیس پر حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور بعض حلقے پولیس کے اختیارات میں کمی کا مطالبہ بھی کرتے رہے ہیں۔پولیس پر الزام ہے کہ وہ معمولی قسم کی غلطیوں کی بنیاد پر بنا کر لوگوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ عوامی مقامات پر شراب نوشی اور فٹ پاتھوں پر سگریٹ پھیکنے یا کسی کی الزام تراشی کے نتیجے میں لوگوں کو بیدردی سے گرفتار کر لیا جاتا ہے، اور ان پر جرمانے عائد کئے جاتے ہیں۔گزشتہ برس معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث 40 فیصد ملزمان عدالتی سماعتوں سے بھی غیر حاضر ہیں یا بہانہ تراش کر حاضری سے اجتناب برتا۔ اس صورتحال پر سٹی کونسل کے متعدد اراکین بھی پولیس اور کمیونٹی کے درمیان تعلقات کے حوالے سے تشویش کا شکار رہے ہیں اورخود سٹی میئر نے بھی بعض مواقعوں پر پولیس کو احتجاجی مظاہرین کیخلاف طاقت استعمال کرنے سے روکا۔اس لئے، بیشتر سٹی کونسل اراکین نے پولیس کمیشنر کے فیصلے کو سراہا ہے۔ جس کو بنیاد بنا کر پولیس کمشنر نے ایسے ملزمان کو عام معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پولیس کمشنر کا عام معافی کا فیصلہ نیویارک کے معروف میئر جولیانو کے مشہور ’بروکن ونڈو‘ پالیسی کے برعکس ہے جس کے تحت ان کا خیال تھا کہ معمولی جرائم کی سختی سے بیخ کنی کردی جائے تو بڑے جرائم کی نویت ہی نہیں آئے گی۔بتایا جاتا ہے کہ میئر جولیانو کی اس پالیسی سے نیویارک شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی تھی، اور دنیا کا یہ خطرناک ترین شہر پرامن شہر میں تبدیل ہوا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…