منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

نیپال میں تباہ کن زلزلے کے بعد سیلاب کا خطرہ

datetime 24  مئی‬‮  2015 |

کھٹمنڈو(نیوزڈیسک)نیپال کے مغربی علاقے میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک دریا کا بہاو¿ رک گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔دارالحکومت کھٹمنڈو سے 140 کلومیٹر شمال مغرب میں میاگدی ضلعے میں کالی گنڈکی دریا میں مٹی کے تودے گرنے سے ایک گہری جھیل بن گئی ہے۔ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں جبکہ فوج کو علاقے میں امداد فراہم کرنے کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے ۔خیال رہے کہ حال ہی میں 25 اپریل کو نیپال میں 8۔7 اعشاریہ شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔اس زلزلے میں آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ کہ اس سے کہیں زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔اس کے بعد 12 مئی کو 3-7 شدت کے زلزے کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیںسنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں نصف شب کے وقت مٹی کے تودے گرنے سے دریا کا بہاو¿ رک گیا اور پانی کی سطح 200 میٹر بلند ہو گئی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار لکشمی پرساد ڈھکل نے خبر رساں ادارے کو بتایا: ’ہم نے دریا کے کنارے آباد گاو¿ں کے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل ہو جانے کے لیے کہا ہے۔‘حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اس علاقے میں موجود نیپال کے ایک بڑے پن بجلی پلانٹ کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔فوج کے ہیلی کاپٹر وہاں پرواز کر رہے ہیں اور فوجیوں کو وہاں اتارا جا رہا ہے تاکہ وہ اس تیزی سے پھیلتی جھیل میں سوراخ کر کے پانی کے بہاو¿ کا راستہ بنائیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہاں جمع پانی رکاوٹ توڑ کر بہہ نکلا تو اس سے وسیع علاقے میں سیلاب کا خطرہ ہے۔خیال رہے کہ یہ کالی گنڈکی دریا نیپال سے گذر کر بھارت آتا ہے اور پھر دریائے گنگا میں مل جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…