پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

نیپال میں تباہ کن زلزلے کے بعد سیلاب کا خطرہ

datetime 24  مئی‬‮  2015 |

کھٹمنڈو(نیوزڈیسک)نیپال کے مغربی علاقے میں مٹی کا تودہ گرنے سے ایک دریا کا بہاو¿ رک گیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔دارالحکومت کھٹمنڈو سے 140 کلومیٹر شمال مغرب میں میاگدی ضلعے میں کالی گنڈکی دریا میں مٹی کے تودے گرنے سے ایک گہری جھیل بن گئی ہے۔ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں جبکہ فوج کو علاقے میں امداد فراہم کرنے کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے ۔خیال رہے کہ حال ہی میں 25 اپریل کو نیپال میں 8۔7 اعشاریہ شدت کے تباہ کن زلزلے کے بعد کئی مقامات پر مٹی کے تودے گرنے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔اس زلزلے میں آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ کہ اس سے کہیں زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔اس کے بعد 12 مئی کو 3-7 شدت کے زلزے کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔ابھی تک کسی قسم کے جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیںسنیچر اور اتوار کی درمیانی شب میں نصف شب کے وقت مٹی کے تودے گرنے سے دریا کا بہاو¿ رک گیا اور پانی کی سطح 200 میٹر بلند ہو گئی ہے۔وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار لکشمی پرساد ڈھکل نے خبر رساں ادارے کو بتایا: ’ہم نے دریا کے کنارے آباد گاو¿ں کے لوگوں کو محفوظ مقامات تک منتقل ہو جانے کے لیے کہا ہے۔‘حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اس علاقے میں موجود نیپال کے ایک بڑے پن بجلی پلانٹ کو اس سے خطرہ لاحق ہے۔فوج کے ہیلی کاپٹر وہاں پرواز کر رہے ہیں اور فوجیوں کو وہاں اتارا جا رہا ہے تاکہ وہ اس تیزی سے پھیلتی جھیل میں سوراخ کر کے پانی کے بہاو¿ کا راستہ بنائیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہاں جمع پانی رکاوٹ توڑ کر بہہ نکلا تو اس سے وسیع علاقے میں سیلاب کا خطرہ ہے۔خیال رہے کہ یہ کالی گنڈکی دریا نیپال سے گذر کر بھارت آتا ہے اور پھر دریائے گنگا میں مل جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…