اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

جرمنی کو سالانہ لاکھوں تارکین وطن کی ضرورت ،بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند افراد کو بڑی خبر سنادی گئی

datetime 13  فروری‬‮  2019 |

برلن(این این آئی)ایک تازہ مطالعے کے نتائج سے یہ پتہ چلا ہے کہ روزگار کی منڈی میں ملازمتیں پر کرنے کے لیے جرمنی میں آئندہ کئی برسوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر 260,000 تارکین وطن کی ضرورت ہو گی۔جرمن معیشت کو درکار افرادی قوت یورپی یونین کے رکن ممالک سے جرمنی پہنچنے والے تارکین وطن سے پوری نہیں ہو گی۔ جرمن اقتصادیات کو مجموعی طور پر سالانہ 260,000 تارکین وطن درکار ہیں،

جن میں سے یورپی یونین کے رکن ممالک سے ہونے والی ہجرت کے علاوہ بلاک کے باہر کے ملکوں سے بھی سالانہ 146,000 تارکین وطن درکار ہوں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ انکشاف ،کے ایک تازہ مطالعے میں کیا گیا ،جرمنی کو ایجنگ پاپولیشن کے مسئلے کا سامنا ہے یعنی یہاں لوگوں کی اوسط عمر زیادہ ہے اور نتیجتا کم عمر افراد کی تعداد کم ہے۔ اگر امیگریشن کے ذریعے مطلوبہ اہداف تک نہ پہنچا گیا یا تارکین وطن کی آمد نہ ہو سکی، تو سن 2060 تک جرمنی میں ملازمت کرنے کے اہل افراد کی تعداد موجودہ تعداد کے مقابلے میں ایک تہائی تک گھٹ کر صرف سولہ ملین رہ جائے گی۔ اس کے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کے حامل اس ملک پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔بیرٹلسمین فانڈیشن کے جائزے کے مطابق ایسی کسی ممکنہ صورتحال سے بچنے کے لیے سن 2060 تک سالانہ بنیادوں پر کل 260,000 تارکین وطن درکار ہوں گے۔ توقع ہے کہ سالانہ 114,000 تارکین وطن یورپی یونین کے باہر کے ملکوں سے آئیں گے جبکہ چند داخلی وجوہات کی بنا پر یورپی بلاک کے رکن ممالک سے آنے والے تارکین وطن کے لیے جرمنی میں کشش کم ہو جائے گی۔بیرٹلسمین فانڈیشن کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر یورگ ڈریگر نے بتایا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سن 2017 میں ملازمت کی غرض سے آنے والے صرف اڑتیس ہزار تارکین وطن نے مستقل بنیادوں پر جرمنی میں رہائش اختیار کی۔ اس معالعے میں جرمن حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ امیگریشن کے قوانین میں اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ اعلی اور درمیانے درجے کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افراد کے لیے دروازے کھل سکیں۔ اس اسٹڈی میں انضمام سے متعلق پروگراموں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…