منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

گیس کے بحران نے ملک کو لپیٹ میں لے لیا،ملک بھر میں سینکڑوں کارخانے بند ، لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ،بڑا مطالبہ کردیاگیا

datetime 10  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ گیس کے بحران نے ملک کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیاہے۔ ملک میں روزانہ ایک ارب مکعب فٹ قدرتی گیس چوری ہو رہی ہے جس پر قابو پانے یا اصلاحات کا عمل شروع کرنے کے بجائے گیس کی قیمت میں اضافہ کر کے ایماندار صارفین کوسزا دی جا رہی ہے۔

گیس کمپنیوں کے سربراہان کی برطرفی اور قیمت میں حالیہ اضافہ سے گیس سپلائی سمیت مجموعی صورتحال بہتر نہیں ہوئی مگر عوام کی کمر ٹوٹ گئی جبکہ ملک بھر میں سینکڑوں کارخانے بند اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گیس بحران سے برامدات اور ریونیو بھی متاثر ہو رہے ہیں مگر عوام کو صرف تسلیاں دی جا رہی ہیں۔ گیس کی قیمت بڑھنے کے بعد جہاں معیشت کو نقصان پہنچا ہے وہاں عام شہری صرف توانائی کی مد میں اپنی آمدنی کا تیس فیصد تک خرچ کرنے پر مجبور ہو گیا ہے جس سے انکا صحت، بچوں کی تعلیم ، کرایہ اور دیگر امور کا بجٹ متاثر ہوا ہے۔ سابقہ دور میں اربوں روپے کی گیس چوری کرنے والے کارخانہ داروں اور ان سے ملی بھگت کرنے والے بیوروکریٹس کے خلاف کاروائی نہ ہونا افسوسناک ہے۔بجلی کا شعبہ بھی توجہ کا متقاضی ہے جس میں اصلاحات کے بغیر گردشی قرضہ جو ڈیڑھ کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے کے جن کو بوتل میں بند کرنا ناممکن ہے۔ 195 ناکام سرکاری اداروں کو مصنوعی طور پر زندہ رکھنے پر بھی سالانہ گیارہ سو ارب روپے خرچ کرنے اور اسکی سزا عوام کو دینے کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…