جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

برآمدات کے فروغ کیلئے ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کی جانب بڑھنا ہوگا : کارپٹ ایسوسی ایشن

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر ز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ حکومتی سرپرستی سے دیہی علاقوں میں وسیع پیمانے پر روزگار کی فراہمی میں مدد دے سکتے ہیں ، گھریلو سطح پر چھوٹے کارخانے لگانے کیلئے بلا سود قرضوں کیلئے سکیم لائی جائے ۔

برآمدات کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات قابل تعریف ہیں تاہم نتائج کے حصول کیلئے رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایسوسی ایشن کے سینئر مرکزی رہنما عبد اللطیف ملک نے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر کارپٹ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف ، ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین اعجاز الرحمان، سعید خان ، اکبر ملک ، میجر (ر) اختر نذیر اور دیگر بھی موجود تھے۔ عبد اللطیف ملک نے کہا کہ دیہی علاقوں غربت اور بیروزگاری کی شرح انتہائی زیادہ ہے جس کیلئے فوری منصوبہ بندی کر کے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ کارپٹ انڈسٹری روزگار کی فراہمی کے لئے موثر ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے انتہائی کم خرچے سے دیہاتوں میں گھروں کی دہلیز پر روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔حکومت گھریلو سطح پر چھوٹے کارخانے لگانے والوں کی معاونت کرے اور ان کے لئے بلا سود قرضوں کا اجراء کیا جائے ۔ اس طرز کے منصوبوں سے غربت ختم کر کے پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے لئے رول ماڈل بن سکتا ہے ۔ عبد اللطیف ملک نے کہا کہ پاکستان کی مجموعی ترقی کیلئے برآمدات کو فروغ دینا ہوگا اور اس کیلئے ہمیں ویلیو ایڈڈ انڈسٹری کی جانب بڑھنا ہوگا ۔ حکومت برآمدات کے فروغ کے لئے قابل ستائش اقدامات کر رہی ہے لیکن نتائج حاصل کرنے کے لئے رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…