منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

60عدالتوں کے جج خود انصاف کے متلاشی نکلے ،سیشن جج کی رپورٹ نے تھرتھلی مچا دی

datetime 7  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)ضلعی عدالتیں ایف ایٹ کے پلازوں سے ہٹانے کے لیے درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں،زلزلہ تو دور کی بات آفٹر شاکس نے اسلام آباد کی عدالتیں ہلا کر رکھ دیں،بارشوں کے پانی سے اہم ریکارڈ ضائع ہونے کا خدشہ،حکومت اور ذمہ دار اداروں نے ایک نہ سنی تو عدالتیں سڑکوں پر آجائینگی،ایف ایٹ کچہری کی 60عدالتوں کے جج خود انصاف کے متلاشی نکلے ہیں،سیشن جج کی رپورٹ نے تھرتھلی مچا دی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اسلام آباد سے طلب کی گئی رپورٹ میں جواب جمع کرواتے ہوئے سیشن جج سہیل ناصر نے ڈسٹرکٹ کورٹ کی عدالتوں کی مخدوش حالت کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں سہولیات کی کمی ہے جسکی وجہ سے یہاں ججز تو کیا جانور بھی رہنے کے قابل نہیں ہیں ۔ اسلام آباد کچہری کی کچھ عدالتوں کی عمارتیں کرائے پر ہیں ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عدالتی عمارتوں کی گزشتہ دس بر س سے مرمت تک نہیں کرائی گئی اور عمارتوں کی مرمت نہ ہونے کاذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد مالکان کو مستقل کرایہ نہیں دیتی جسکی وجہ سے مالکان عمارتوں میں مرمت نہیں کرواتے ۔سیشن جج نے رپورٹ میں مزید انکشاف کیا کہ عمارتوں کے مالکان نے ماتحت عدالتوں کی بے دخلی کیلئے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جو انہی عدالتوں میں زیر التوا ہیں ۔اورعمارتوں سے بے دخلی کے حکم پر عمل ہوا تو عدالتیں سڑک پر لگانی پڑیں گے جبکہ زلزلے کی وجہ سے عدالتوں کی متاثرہ عمارتوں پر کریکس کے نشانات واضح ہیں ۔خدشہ ہے کہ عمارتوں کی مخدوش صورتحال مستقبل میں انسانی زندگی کے لئے المیہ ثابت نہ ہو جائے ۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اسلام آباد کچہری میں 60 عدالتیں قائم ہیں اور کچہری کی خطرناک موجودہ صورتحال میں بنیادی سہولیات کی بھی کمی ہے جبکہ کچھ عدالتوں میں باتھ رومز تک نہیں ہیں اور نہ ہی عدالتی عمارتوں کی گزشتہ دس بر س سے مرمت کرائی گئی ہے اور پرائیویٹ عمارتوں میں عدالتوں کا سالانہ کرایہ سات کروڑ روپے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…