بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل، والدہ سے ملاقات کرتے ہوئے جذباتی مناظر، تیز رفتاری کے باعث نواز شریف کی گاڑی سے گر کئی کارکن زخمی ہو گئے

datetime 7  فروری‬‮  2019 |

لاہور (ا ین این آئی)سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کو سخت سکیورٹی میں سروسز ہسپتال سے دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ،ہسپتال سے روانگی کے موقع پر انکی والدہ بیگم شمیم اختر نے نواز شریف کا بوسہ لیا اور سابق وزیر اعظم نے بھی والدہ کے ہاتھ چومے جنہوں نے انہیں دعائیں دیں ،لیگی کارکنوں کی جانب سے گاڑی کے سامنے بھرپور نعرے بازی کی گئی ۔تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو 6 روز تک ہسپتال میں رکھا گیا ،

اس دوران خصوصی میڈیکل بورڈ نے انکے مختلف معائنے کیے اور میڈیکل رپورٹ پیش کی جس میں نوازشریف کو جیل کے بجائے ہسپتال میں ہی رکھنے کی سفارش کی گئی۔میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے پیش نظر پنجاب حکومت نے نوازشریف کو سروسز ہسپتال سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تاہم نوازشریف نے پی آئی سی جانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں واپس جیل لے جایا جائے۔جس پر گزشتہ روز محکمہ داخلہ کے حکام ہسپتال پہنچے جہاں انہیں نواز شریف کی ڈسچارج سلپ دی گئی جس کے بعد ڈاکٹرز نے معمول کا چیک اپ کرنے کے بعد انہیں ڈسچارج کر دیا ۔نواز شریف نے جیل روانگی سے قبل ہسپتال میں اپنی والدہ سے ملاقات کر کے انکے ہاتھ چومے جنہوں نے انہیں دعائیں دیں ۔ سابق وزیر اعظم بیٹی مریم نواز اور دیگر سے ملنے کے بعد واپس جیل جانے کے لئے گاڑی میں سوار ہو گئے ۔ ہسپتال سے روانگی کے موقع پر لیگی کارکنان کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جن کی جانب سے گاڑی کے آگے بھرپور انداز میں نعرے بازی کی جا تی رہی ۔ جبکہ کئی کارکن نواز شریف کی گاڑی کے ساتھ بھی لٹک گئے لیکن ہسپتال سے باہر نکلتے ہی ڈرائیور نے گاڑی تیز کر دی جس کی وجہ سے کئی کارکن گر کر معمولی زخمی بھی ہوئے ۔ ڈاکٹرز کے مطابق نوازشریف کو چیک اپ کے لیے دوبارہ ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

قبل ازیں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کیلئے انکی والدہ بیگم شمیم اختر اپنی پوتی مریم نواز کے ساتھ ہسپتال پہنچیں ۔نوازشریف کی والدہ نے اپنے بیٹے سے ملاقات کر کے خیریت دریافت کرنے کے ساتھ کو دعائیں بھی دیں۔ذرائع کے مطابق حکام کی جانب سے کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران نواز شریف سے ملاقات کیلئے جمعرات کا دن مقرر ہے ۔تاہم گزشتہ روز نواز شریف نے ہسپتال میں زیر علاج ہونے کی وجہ سے رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقاتوں سے معذرت کر لی جس کی وجہ سے ملاقاتیوں کی فہرست مرتب نہیں کی گئی ۔ جاوید ہاشمی سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کیلئے سروسز ہسپتال آئے تاہم انہیں ملاقات سے روک دیا گیا جس کے بعد وہ میڈیا سے گفتگو کر کے واپس روانہ ہو گئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…