منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

معصوم بیٹی کا قتل ،ماں انتہائی اقدام پر کیوں مجبور ہوگئی؟بچی کا باپ کیا کرتا تھا؟ انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

کراچی(یوپی آئی) کلفٹن کے علاقے میں معصوم بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنے کے الزام میں زیر حراست ماں کے ساتھ اس کے شوہر اور والد سے بھی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ شکیلہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے بلاوجہ گھر سے بے دخل کردیا تھا

جبکہ اس کے باپ نے بھی گھر میں جگہ نہ دی جس پر وہ دربدر ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بچی سے چھٹکارا پا کر خود بھی مرنا چاہتی تھی۔واضح رہے کہ 4 فروری کی شام ڈیفنس کے علاقے میں فرحان شہید پارک کے قریب پیش آنے والے واقعے میں 28 سالہ شکیلہ راشد نے اپنی ڈھائی سالہ بیٹی انعم کو سمندر میں ڈبو دیا تھا جس کی لاش گزشتہ روز دودریا کے قریب سے برآمد ہوئی تھی۔ جس کے بعد ٹی وی اور سوشل میڈیا پر خاتون اور اس کے شوہر و والد پر سخت تنقید جاری تھی۔ اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ 28 سالہ خاتون کا اپنی بیٹی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنا ذاتی فعل ہے تاہم اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں گی کہ ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے کہ وہ اس انتہائی اقدام پر مجبور ہوئی۔ اس حوالے سے ملزمہ شکیلہ کے شوہر راشد شاہ اور والد سے تفتیش کی جائے گی پولیس حکام کے مطابق اس الزام کو قتل بالسبب کہا جاتا ہے جس پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 322 عائد ہوتی ہے۔  کلفٹن کے علاقے میں معصوم بچی کو سمندر میں ڈبو کر قتل کرنے کے الزام میں زیر حراست ماں کے ساتھ اس کے شوہر اور والد سے بھی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ شکیلہ نے پولیس کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ اس کے شوہر نے ایک ماہ قبل اسے بلاوجہ گھر سے بے دخل کردیا تھا جبکہ اس کے باپ نے بھی گھر میں جگہ نہ دی جس پر وہ دربدر ہوگئی تھی اور اسی وجہ سے بچی سے چھٹکارا پا کر خود بھی مرنا چاہتی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…