منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس ،شہباز شریف کے کردار پر شدید اظہار تشویش ،علیم خان کے بارے میں بڑا فیصلہ کرلیاگیا

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں شہباز شریف کے کردار پر شدید اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو این آر او مل جائے یہ نا ممکن ہے، ڈیل ہو گی نہ ڈھیل ہو گی ، بدعنوانی مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، علیم خان نے استعفیٰ دے کر شاندار روایت کا آغاز کیا،شہباز شریف کی بھی اسی طرح کی سوچ ہونی چاہیے۔ بدھ کو وزیر اعظم کی صدارت میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا

اہم اجلاس ہوا جس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین نے کہاکہ اجلاس میں سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے 22سال کرپشن کے خلاف جدوجہد کی ، یہ کوئی ذاتی لڑائی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو این آر او مل جائے یہ نا ممکن ہے ۔چودھری فواد حسین نے کہا کہ واضح ہو جانا چاہیے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں کسی کو این آر او ملے گا ۔ وزیر اطلات نے کہا کہ ڈیل ہو گی نہ ڈھیل ہو گی ، بدعنوانی مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ سینئر ارکان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں شہباز شریف کے کردار پر شدید اظہار تشویش کیا ،شہباز شریف نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں نیب کے لوگوں کو طلب کر کے دباؤ ڈالا ،شہباز شریف،مسلم لیگ ن پی اے سی کو بدعنوانی مقدمات کیلئے ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ سعد رفیق کو اسی ڈھال کے لئے پی اے سی میں آنے کا کہا جا رہا ہے ۔وزیر اطلاعات نے کہاکہ علیم خان نے نیب کی گرفتاری کے فوراً بعد عہدے سے استعفیٰ دیا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ علیم خان کا استعفیٰ ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کلچر میں کیا فرق ہے ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ علیم خان نے استعفیٰ دے کر

شاندار روایت کا آغاز کیا ۔چودھری فواد حسین نے کہا کہ علیم خان جانتے ہیں انہوں نے اپنے عہدے کا استعمال کیے بغیر نیب مقدمات کا سامنا کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی بھی اسی طرح کی سوچ ہونی چاہیے۔چودھری فواد حسین نے کہا کہ مطالبہ کرتے ہیں کہ شہباز شریف کے چیئرمین پی اے سی کے عہدے سے علیحدہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں لگنا چاہیے کہ توازن قائم کیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ احتساب میں شفافیت اور میرٹ نظر آنا چاہیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…