ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

نیب اگر ضرورت پڑے تو کسی بھی حکومتی عہدیداریاسرکاری ملازم کو حراست میں لے سکتا ہے،حکومت نے بڑا اعلان کردیا

datetime 6  فروری‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)صوبائی وزیر برائے اطلاعات وثقافت فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ نیب نے محض تحقیقات کے لیے عبدالعلیم خان کو تحویل میں لیا ہے، نیب کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم یا حکومتی عہدے پر فائز سیاست دان کو کسی بھی الزام میں خاص طور پر مالی انتظامات کے الزام میں گرفتار بھی کر سکتا ہے اور تحویل میں بھی لے سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر برائے اطلاعات و ثقافت فیاض الحسن چوہان نے سینئروزیر عبدالعلیم خان کے حراست میں لیے

جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ نیب کے ادارے کو مکمل طورپر حق حاصل ہے کہ وہ تحقیقات کرے اور صاف وشفاف تحقیقات کے لیے اگر ضرورت پڑے تو کسی بھی حکومتی عہدیداریاسرکاری ملازم کو حراست میں لے سکتا ہے۔عبدالعلیم خان کوصرف تحقیقا ت کے لیے حر است میں لیا گیا ہے۔ نیب نے ابھی عبدالعلیم خان کومجرم ڈکلئیر نہیں کیا اس لیے وہ نہ تو ملزم ہیں اور نہ ہی مجرم۔صرف حراست میں لینے سے کسی کو بھی مجرم ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ تحریک انصاف دوسری جماعتوں کی طرح نہیں ہے۔ یہاں آل شریف کی طرح تحقیقات میں رکاوٹیں نہیں ڈالی جاتیں ہے ۔ عبدالعلیم خان صاحب دوسری پیشی پر آئے تھے لیکن انھوں نے آ ل شریف اور آل زرداری کی طرح نہ تو پیشی پر آنے سے پہلے نیب اور عدالتی اداروں کے خلاف کچھ بولا اور نہ ہی جاتے ہوئے کسی پر کوئی تنقید کی ۔ پاکستا ن تحریک انصاف کی طرف سے کسی نے بھی نیب اور عدالتی اداروں کے خلاف کچھ نہیں بولا۔آ ل شریف اور آل زرداری جب بھی نیب کی پیشی میں آتے تھے توآنے سے پہلے بھی نیب اور عدالتی اداروں کولعن طعن اور اس پر الزام تراشی کرتے تھے اور پیشی کے بعد بھی وکٹری کا نشان بنا کر جارہے ہوتے تھے جیسے کشمیر فتح کرکے آئے ہوں یا پھر دہلی کے لال قلعے پر پاکستا ن کاپرچم لہرا کر آئے ہوں ۔ لیکن تحریک انصاف اور عمران خان آ ل شریف اور آل زرداری جیسے نہیں ہیں اور یہ فرق آج سب کے سامنے واضح ہو گیاہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…