ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

تقریر سے لگا عمران خان وزیر اعظم نہیں وزیر مویشیاں ہیں،، مرغیوں اورکٹے پالنے کی باتیں وزیراعظم کے منصب کا مذاق ہے،اہم سیاسی شخصیت نے کھری کھری سنادیں

datetime 1  دسمبر‬‮  2018 |

کوئٹہ(آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سرپرست اعلی اوررکن قومی اسمبلی مولاناعصمت اللہ نے کہاہے کہ عمران خان کو معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ وزیر اعظم ہیں، انہیں بیگم بشریٰ کو بتانا پڑتا ہے، سود ن کی کارکردگی دراصل 100 یوٹرن کی جھوٹ پر مبنی داستان ہے، ان خیالات کااظہارانہوں نیجمعیت ضلع کوئٹہ کے ناظم انتخابات مولاناخورشیداحمدکی قیادت میں ضلعی کنویننگ باڈی کے وفدسے گفتگوکرتے ہوئے کیا،

مولانا خورشید احمدنے ان کی رکنیت فارم پرکرکے دیااس موقع پرمفتی عبدالسلام،مولانافیض محمدفیضان،حافظ فضل محمد،حافظ مسعوداحمد،حاجی قاسم خان خلجی،عبدالواسع سحر،مفتی احسان الحق حقانی،مولاناجمال الدین،حاجی سرورخان درانی،مولاناالطاف اللہ سمیت دیگربھی موجودتھے،مولاناعصمت اللہ نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت کا پہلے 100 روزہ منصوبے پر بغلیں بجانا حیران کن ہے،اس دوران حکومت کی کارکردگی کیا رہی ہے ، وہ کچھ بتانے سے قاصر ہیں،ابھی تک انتخابی مہم کے نعرے اور سہانے خواب دکھائے جارہے ہیں،وزیر اعظم کے منصب پربیٹھا شخص اس عہدے کا مذاق اڑا رہا ہے، جو قومی پالیسیاں دینے کی بجائے ، مرغیوں اور بچھڑوں کی باتیں کررہا ہے، جو صوبائی حکومت کے محکمہ لائیو سٹاک کا کام ہے،تقریر سے لگا عمران خان وزیر اعظم نہیں، صوبائی وزیر مویشیاں ہیں،انہوں نے کہاکہ جس کی قوم کو لوریاں دی جارہی ہیں اور مزید بیوقوف بنایا جارہا ہے،دیکھیں عوام اس نحوست کو کب تک برداشت کرتے ہیں کیونکہ جب سے حکومت آئی ہے ، کوئی کام ڈھنگ سے نہیں چل رہا، غریبوں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، آمریت اور اسٹیبلشمنٹ کے مہرے زیادہ دیر نہیں چلتے، اپوزیشن جماعتوں کو ناجائز حکومت کے خلاف اپنی حکمت عملی طے کرنا ہوگی،متحدہ مجلس عمل اپنا کردار ادا کرے گی،انہوں نے کہا کہ شروع دن سے جمہوری قوتوں نے پی ٹی آئی کی دھاندلی انتخابات کے نتیجے اور غیر فطری طریقے سے تشکیل پانے والی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ آج نہیں تو کل اس کے خلا ف عوامی مہم چلانا ہوگی ، لیکن حکمت عملی یہی ہوگی کہ ابھی کچھ عرصہ برداشت کرلیا جائے ،حکومت اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے خودگرجائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…