ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

’’میں مزدوری کرتا ہوں کبھی دیہاڑی لگ جاتی ہے کبھی نہیں لگتی، میں یہاں فٹ پاتھ پر سو جاتا تھا، اللہ تعالیٰ عمران صاحب کو خوش رکھے‘‘۔ ان لوگوں کے تاثرات جنہیں عارضی شیلٹر ہومز میں پناہ مل گئی، ہر شخص دعائیں دیتا رہا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بے گھر اور فٹ پاتھ پر سونے والے لوگوں کے لیے شیلٹر ہوم کے قیام کا اعلان کیا اور اسے عملی صورت بھی دی، ان شیلٹر ہومز سے بے سہاروں اور پردیسیوں کی سنی گئی ہے، ایک نجی ٹی وی چینل نے شیلٹر ہوم میں رات گزارنے والے لوگوں سے گفتگو کی، اس گفتگو میں لوگوں نے وزیراعظم عمران خان کو بہت دعائیں دیں، تمام لوگوں نے اپنے بارے میں بتایا کہ وہ کہاں سے ہیں،

ایک شخص نے بتایا کہ پہلے ہم باغ میں سوتے تھے لیکن اب ہم اس شیلٹر ہوم میں رہیں گے، ایک بزرگ شخص امجد نے بتایا کہ پہلے باغ میں رہتے تھے اور اب یہاں رہیں گے، انہوں نے شیلٹر ہوم کے بارے میں کہا کہ ایسا کبھی بھی نہیں ہوا اور نہ ہی ہو گا۔ ایک شخص نے اپنا نام ادریس بتایا اور کہا کہ میں مزدوری کرتا ہوں اور کبھی فٹ پاتھ اور کبھی دربار میں سوتا تھا لیکن اب میں یہاں رہوں گا۔ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ساجد نے بتایا کہ وہ پہلے عام سرائے میں چارپائی کرائے پر لے کر رہتے تھے لیکن وہاں کھٹمل اور گندگی بہت تھی، یہ بہت بہتر ہے۔ ایک اور بزرگ صابر نے بتایاکہ میں مزدور ہوں، کبھی دیہاڑی لگتی ہے اور کبھی نہیں، اسی طرح کئی دفعہ فٹ پاتھ پر سویا ہوں لیکن یہ حکومت نے اچھا کام کیا ہے، اللہ تعالیٰ عمران خان کو خوش رکھے۔ ایک شخص ساجد نے بتایا کہ پندرہ سال سے فٹ پاتھ پر رہ رہا ہوں لیکن حکومت کا یہ بہت اچھا اقدام ہے۔غرض یہاں موجود ہر شخص نے حکومت اور عمران خان کو خوب دعائیں دیں۔ دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ آج ایک ایماندار شخص ملک کا وزیراعظم ہے، ایماندار شخص کو پیسوں کی کمی نہیں ہوتی، بے ایمان لوگ ہوں تو کوئی پیسے نہیں دیتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نجی تنظیم کے فلاحی مرکز کا دورہ کرتے ہوئے کیا، گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ فلاحی کام ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہیں، عمران خان کو فٹ پاتھ پر سونے والوں کی فکر ہے،

نجی تنظیم کے ساتھ فٹ پاتھ پر رہنے والوں کے لیے شیلٹر ہوم بنائیں گے،گورنر سندھ نے کہا کہ 6 لاکھ روپے کا ہیلتھ کارڈ جاری کرنے جارہے ہیں، پانچ کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے موبائل اسپتال منگوائے ہیں، گزشتہ پانچ حکومتوں نے وہ کام نہیں کیا جو موجودہ حکومت نے کیا۔عمران اسماعیل نے کہا کہ سرکلر ریلوے شہر کی جان اور شہر کا فخر تھا، ریلوے ٹریک پر قائم آبادیاں ہٹا دی جائیں گی جو حکومتی اراضی ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ریلوے کی زمین حکومت پاکستان کی ہے کسی وزیر کی نہیں ہے، سپریم کورٹ کے نئے حکم سے مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…