اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ملک میں پولیو کیسز کی سالانہ شرح میں حیران کن حد تک کمی ،تعداد 20 ہزار سے گھٹ کر کتنی ہوگئی؟جان کر آپ دنگ رہ جائینگے

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آبا د( آن لائن ) بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے پاکستان میں پولیو کی روک تھام کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کردیا۔وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ہر بچے کو پولیو جیسی خطرناک اور تباہ کن بیماری سے محفوظ رکھنے کی کوششوں میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے معاون ڈاکٹر رانا محمد صفدر کے بیان کے مطابق 90 کی دہائی کے آغاز میں ملک میں پولیو کیسز کی سالانہ شرح 20 ہزار تھی جو ماضی کے مقابلے میں گھٹ کر پچھلے سال محض 8 کیسز رہ گئی تھی۔ ملک میں پولیو کے خاتمے کے لیے وزیراعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا کی جانب سے طلب کردہ اہم بین الاقوامی عطیا ت دہندگان اور شراکت داروں پر مشتمل اجلاس میں ڈاکٹر رانا محمد صفدر کا مزید کہنا تھا کہ انتہائی قابل ذکر کمی کے باوجود شہروں کے سیوریج میں وائرس کی موجودگی کا انکشاف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ابھی مزید کام باقی ہے۔اجلاس میں اسلامی ترقیاتی بینک، روٹری انٹرنیشنل، حکومت جاپان، جرمنی، اٹلی، اور کینیڈا کے نمائندے اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف، یو ایس ایڈ اور سی ڈی سی کے عہدیداران بھی شریک تھے۔اس موقع پر بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعز م ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نہ صرف گزشتہ برسوں میں حاصل کی گئی کامیابی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں بلکہ خاص کر آنے والے موسم سرما میں ایک مہم میں پولیو کے قطروں سے محروم رہ جانے والے بچوں کو اگلی مہم میں شامل کر نے پر خصوصی توجہ دے کر اس عمل کو تیز کرنا چاہتے ہیں۔اس موقع پر اجلاس کے شرکا نے 19۔2018 تک پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمے کے حکومتی عزم کو سراہا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ترقیاتی بینک کے ڈاکٹر عمر میر کاکہنا تھا کہ ہمیں اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ملکی پروگرام میں شراکت دار ہونے پر فخر ہے جس میں ہم نئی حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان سے پولیو کے خاتمے کے لیے تندہی سے کام کریں گے۔ دیگر اداروں کے نمائندوں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ ملک سے پولیو وائرس کے مستقل اور پائیدار بنیادوں پر خاتمے کے لیے معمول کے مطابق حفاظتی ٹیکے، صاف پانی، صفائی ستھرائی اور غذائیت کی کمی جیسے مسائل پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔خیال رہے کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم حکومتی سطح پر کی جاتی ہے جس میں وسیع پیمانے پر عوامی اور نجی امداد شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…