پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

شاہراہ دستور پر اپوزیشن کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کوایسے نام سے پکارا گیا کہ علامتی سپیکر ایاز صادق الفاظ حذف کرانے پر مجبور ہو گئے، ایاز صادق کے انتہائی مزاحیہ جملے بھی جاری رہے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپوزیشن لیڈرشہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف منعقدہ پارلیمنٹ کامشترکہ علامتی احتجاجی اجلاس میں قومی اسمبلی اورسینٹ کے حقیقی اجلاسوں کی جھلک نظرآئی، احتجاجی اجلاس کا باقاعدہ ایجنڈا مقرر کیا گیا،علامتی سپیکر سردار ایاز صادق ارکان پارلیمنٹ کو جلد تقاریر ختم کرنے کی ہدایت کرتے رہے،اپوزیشن ارکان کی جانب سے وزیراعظم عمران خان اور سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کیلئے استعمال کئے گئے سخت الفاظ کو حذف کروائے گئے،

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شیخ فیاض الدین کو حکومتی نمائندہ مقرر کیا گیا ،2صحافیوں کو علامتی سیکرٹری قومی اسمبلی اور جوائنٹ سیکر ٹری مقرر کیا گیا ۔ جمعرات کو مسلم لیگ (ن)کی جانب سے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف علامتی احتجاجی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شاہراہ دستور پر منعقد کیا گیا جس میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان پارلیمنٹ کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام(ف) کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔علامتی احتجاجی اجلاس میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے طریقہ کار کو اپنایا گیا،علامتی اجلاس کا باقاعدہ ایجنڈا جاری کیا گیا جبکہ اجلاس کی کاروائی میں دو توجہ دلاؤ نوٹس، شہباز شریف کی گرفتاری پر عام بحث کی تحریک اور قراردادیں شامل تھیں۔اجلاس کے دوران علامتی سپیکر سردار ایاز صادق کے مزاحیہ جملوں بھی جاری رہے،ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے تقاریر کے دوران وزیراعظم عمران خان کیلئے ’’بچے بچونگڑے کی آنیاں جانیاں‘‘،’’کوکین‘‘ اور سپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے ’’ڈاکو‘‘کے الفاظ استعمال کرنے پر سردار ایاز صادق نے انہیں حذف کروادیا۔علامتی اجلاس کے دوران سردارایازصادق نے کہا کہ سارجنٹ پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کے پاسز چیک کریں،جو بغیر پاسز کے ہیں انہیں باہر نکالا جائے،تقاریر کے دوران ارکان کی جانب سے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر

احتجاج بھی کیا گیا اور احتجاجاً واک آؤٹ کی دھمکی بھی دی ،لیگی اقلیتی رکن درشن لال اور ریاض الحق نے بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر احتجاج کیا۔سردار ایاز صادق نے بیٹھے بیٹھے تقاریر کرنے والوں کو اٹھ کر تقاریر کرنے کی ہدایت کی۔احتجاجی اجلاس کے دوران دو صحافیوں کو سیکرٹری قومی اسمبلی اور جوائنٹ سیکرٹری قومی اسمبلی بھی مقرر کیا گیا تھا۔علامتی اجلاس میں ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے معاملات کا جواب دینے کیلئے لیگی رکن شیخ فیاض الدین کو حکومتی نمائندہ بھی مقرر کیا گیا۔سردار ایاز صادق نے علامتی طور پر مقرر کئے گئے سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری قومی اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ صحافیوں کو قراردادوں کی کاپیاں فراہم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…