پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کےبرسر اقتدار آنے پر دنیا بھر کے قادیانی خوش کیوں ہیں؟ کس کس نے جشن منایا ؟مولانا فضل الرحمن نے ایسا دعویٰ کر دیا کہ جان کر آپ کے بھی پیروں تلے سے زمین نکل جائیگی

datetime 11  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسلامی تشخص کے بارے میں بہت پہلے کہہ چکے ہیں کہ عمران خان ایک ایجنڈا کی رو سے آئے ہیں جو آج ثابت ہورہا ہے، برسر اقتدار آتے ہی پوری دنیا کے قادیانیوں نے جشن منایا اور 1974 کے بعد پہلی مرتبہ قادیانی متحرک ہوئے ٗہمیں ان کا ایجنڈا سمجھ لینا چاہیے۔انہوںنے کہا

کہ جب دبائو آ جا تا ہے تو اپنی کہی بات سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں ٗاقتصادی کونسل کے ممبر کو قادیانی بنایا گیا تاکہ ان کی تابع کے مطابق معیشت ہوں، اقتصادی ترجیحات سامنے آگئیںٗ توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کی بات ہو رہی ہے کہ یہ قانون غلط استعمال ہورہاہے ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان میںپانچ سو مقدمات مسلمانوں کے خلاف درج ہیں جبکہ غیر مسلموں کے خلاف چالیس مقدمات درج ہیں تو اس کا استعمال غلط کیوں ہے ؟اُنہوں نے کہا کہ جو اکثریت آرہی ہے یہ جعلی ہے ٗپی ایم ایل( ن) پنجاب میں، پی پی پی سندھ میں کامیاب ہوئی ہے لیکن دونوں کہہ رہی ہیں کہ ہمیں بہت زیادہ ووٹ ملے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اب شفاف انتخابات کے نام پر اتحاد بنایا جا رہا ہے جوکہ پچیس جولائی کے انتخابات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ختم نبوت قانون میں یہ ترمیم کر رہے ہیں کہ جس نے کسی فرد کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیااور ثابت نہ کرسکیں تو الٹا مدعی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائیگا ، دعویٰ اور ثبوت میں فرق ہے بعض اوقات دعویٰ سچا اور ثبوت نہ مکمل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے دعویٰ خارج کیا جا تا ہے ۔جو اکثریت آرہی ہے یہ جعلی ہے ٗپی ایم ایل( ن) پنجاب میں، پی پی پی سندھ میں کامیاب ہوئی ہے لیکن دونوں کہہ رہی ہیں کہ ہمیں بہت زیادہ ووٹ ملے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ اب شفاف انتخابات کے نام پر اتحاد بنایا جا رہا ہے جوکہ پچیس جولائی کے انتخابات پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ ختم نبوت قانون میں یہ ترمیم کر رہے ہیں کہ جس نے کسی فرد کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ درج کیااور ثابت نہ کرسکیں تو الٹا مدعی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائیگا ،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…