اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے پی ایس او محمد علی کے خلاف 54کروڑ روپے کی کرپشن تحقیقات کیلئے چیئرمین نیب کو باضاطبہ درخواست دیدی گئی، نے کامرس ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے دیگر ملزمان کو گرفتار کرکے محمد علی کو آزاد کیوں چھوڑ دیا؟ درخواست گزاروں کا موقف۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے
پی ایس او محمد علی کے خلاف کامرس ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کرپشن سکینڈل میں 54 کروڑ روپے کرپشن کی تحقیقات کیلئے چیئرمین نیب کو باضابطہ درخواست دے دی گئی ہے، درخواست گزاروں نے چیئرمین نیب سے استدعا کی ہے کہ سکینڈل کے دیگر ملزمان کو تو گرفتار کر لیا گیا تاہم اہم ملزم محمد علی کو گرفتار کیوں نہیں گیا اور انہیں شامل تفتیش بھی نہیں کیاجا رہاجبکہ کرپشن کے وقت محمد علی رجسٹرار کوآپریٹو (آئی سی ٹی) تعینات رہے ہیں۔ واضح رہے کہ زیراعظم عمران خان کے پرنسل سٹاف آفیسر محمد علی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور رجسٹرار کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ کروڑوں روپے کی کرپشن کی ہے اور 54 کروڑ روپے مالیت کے بوگس پلاٹوں کا دھندہ بھی کیا ہے محمد علی پر کامرس ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی میں بھی کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے اس سکینڈل میں سابق ڈائریکٹر جنرل نیب ناصر اقبال‘ ڈائریکٹر نیب شکیل وغیرہ بھی ملوث ہیں جن کو نیب بدر کردیا گیا ہے۔درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ محمد علی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مالکان اور مافیا سے مل کر بھاری کرپشن کرکے اثاثے بنائے ہیں۔ درخواست گزاروں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ محمد علی رجسٹرار کوآپریٹوز کے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے بھاللهی محمود کو آگے کیا اور اسلام آباد کی 37 ہائوسنگ سوسائٹیوں سے انتہائی سستے
پلاٹ لے کر مارکیٹ ریٹ پر مہنگے داموں فروخت کرکے کروڑوں روپے کے اثاثے بنائے اور بعد ازاں اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی معاونت سے وزیراعظم عمران خان کا پرنسپل اسسٹنٹ بھی بننے میں کامیاب ہوگیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اس کرپشن سکینڈل میں وزارت کامرس کوآپریٹو سوسائٹی کے عہدیدار نیب نے گرفتار کر رکھے ہیں جبکہ محمد علی اور دیگر سرکاری عہدیداروں کو نوٹس تک بھی نہیں کیا گیا۔خیال رہے کہ سابق رجسٹرار کو آپریٹو محمد علی اور سابق سرکل رجسٹرار مظہر علی کی مبینہ کرپشن کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کے ساتھ 9 ارب روپے کا فراڈ ہوا۔



















































