بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

کسی کی تنقید دل پر نہیں لیتا لیکن حقائق کو مسخ کر کے بے جا واویلا نہ کیا جائے،آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے کیا کرینگے؟وزیرخزانہ اسدعمر نے بڑا اعلان کردیا

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کسی کی تنقید دل پر نہیں لیتا لیکن حقائق کو مسخ کر کے بے جا واویلا نہ کیا جائے۔ صرف اشرافیہ کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ نان فائلرز پر پابندی ختم کر کے انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے دوست ممالک کی مدد کو ترجیح دیں گے لیکن مجھے اسحاق ڈار سے نہ ملایا جائے۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ میرا اسحاق ڈار سے موازنہ کرنا درست نہیں ۔ انہوں نیحکومت میں آتے ہی سیلز ٹیکس بڑھا کر غریبوں پر براہ راست بوجھ ڈالا تھا جبکہ ہم نے اشرافیہ کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس کی شرح بڑھائی ہے۔ پاکستان میں دنیا سستے ترین سگریٹ دستیاب ہیں صرف سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے سے خزانے کو 35ارب کا فائدہ ہو گا اور سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ وزارتِ صحت کی سفارش پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نان فائلر کو گاڑی اور جائیداد خریدنے کی اجازت دے کر انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے جبکہ اپوزیشن عوام کو غلط حقائق بتا کر بے جا تنقید کر رہے ہیں۔ اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے جاتے جاتیحقائق کے بر عکس بجٹ پیش کیاجس میں 900ارب روپے کی غلطی تھی جس کی درستگی کے لئے ترمیمی بجٹ پیش کرنا ضروری تھا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے بیرونی قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اداروں کے انتظامی معاملات بہتر کر کے معیشت بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ تاہم اکتوبر کے آخر تک فیصلہ کر لیں گے کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے یا دوست ممالک کی امداد اور باہمی تجارت سے موجود مشکل حالات سے باہر نکلنا ہے جبکہ محدود وسائل کا درست استعمال کر کے بجٹ خسارہ کم کرنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ (علی )#/s#



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…