بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پانی کی قلت کا خاتمہ، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس ،اہم اقدامات کی منظوری دیدی گئی

datetime 26  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے وزارت آبی وسائل اور منصوبہ بندی ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے تمام بڑے شہروں کیلئے ترجیحی بنیادوں پر آبی سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے۔ وہ بدھ کو یہاں وزیراعظم آفس میں وزارت آبی وسائل کی جانب سے بریفنگ کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وزیر توانائی عمر ایوب خان اور

وزیراعظم کے مشیر ملک امین اسلم خان کے علاوہ وفاقی سیکرٹریز آبی وسائل، اقتصادی امور ڈویژن، فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ، چیئرمین واپڈا اور دیگر متعلقہ سینئر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں پانی کی دستیابی کی مجموعی صورتحال، پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے سلسلہ میں درپیش مسائل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی موجودہ گنجائش 13.7 ملین ایکڑ فٹ کے قریب ہے جو بین الاقوامی طور پر رائج معیارات سے بہت کم ہے، اسے ترجیحی بنیادوں پر بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیر زمین پانی کو غیر منظم طریقہ سے نکالنے کے عمل پر قابو پانے کی بھی فوری ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سطحی پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے اور زیر زمین پانی کی غیر ضروری پمپنگ کے موجودہ رجحان کو روکنے کیلئے قانونی فریم ورک کے ساتھ ایک جامع منصوبہ تیار کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم کو مختلف ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت اور چھوٹے، درمیانے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے داسو ڈیم کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اراضی کے حصول اور متاثرین کے ساتھ معاملات کو خیبرپختونخوا حکومت کی مشاورت سے ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے،

اس سلسلہ میں متاثرین کے جائز مطالبات کو مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1984ء کو موجودہ وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کیلئے اس کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے قومی اہمیت کے بڑے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور تکمیل کیلئے مربوط منصوبہ بندی اور متعلقہ محکموں و شراکت داروں کے درمیان ہم آہنگی پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ملک میں سولر اور ونڈ توانائی کے ذرائع کو بروئے کار لانے کیلئے آف گرڈ طریقوں کو فروغ دینے کیلئے جامع منصوبہ تشکیل دینے کی ہدایت کی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…