جمعہ‬‮ ، 15 ‬‮نومبر‬‮ 2024 

نواز شریف کی سزا معطلی کیس : نیب کو بڑا جھٹکا۔۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کو بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 18  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کی سزا معطلی سے متعلق کیس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا ڈویژن بنچ کل سنائے گا، نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل نہ ہو سکے، عدالت کا کل دلائل ہر حال میں مکمل کرنے کا حکم۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی سزا معطلی سے متعلق آج اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس گل حسن اورنگزیب

کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔ عدالت نے کیس سے متعلق کل فیصلہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے تحریری حکم جاری کیا ہے کہ اگر شریف فیملی کی سزا معطلی کی درخواستوں پر نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل نہ بھی ہوئے تو کل فیصلہ سنا دیا جائے گا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‘یہ مفروضہ کہ جائیداد بچوں کے قبضے میں ہے لیکن ملکیت نواز شریف کی ہے، بظاہر احتساب عدالت کا فیصلہ مفروضے کی بنیاد پر ہے۔نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے کہا کہ اس کیس کو اتنے مختصر وقت میں تفتیش کرنا ممکن ہی نہیں تھا، اس مرحلے پر عدالت کا کوئی بھی تبصرہ مناسب نہیں ہوگا جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ بہت اچھی بات کہی آپ نے۔نیب پراسیکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ بچے والدین کے ہی زیر کفالت ہوتے ہیں، لندن اپارٹمنٹس کا قبضہ بچوں کے پاس تھا، باپ بچوں کا نیچرل سرپرست ہے جس کے قبضے میں جائیداد ہے ملکیت کا بار ثبوت اس پر ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا والد اور سرپرست ہونے کی وجہ سے

بار ثبوت ان پر ہے اور یہ کہتے ہیں حسن اور حسین ہی بتا سکتے ہیں، اخراجات ریکارڈر پر نہیں ہیں جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کہتے ہیں کہ آمدن سے متعلق چارٹ واجد ضیاء نے پیش نہیں کیا، تفتیشی افسر نے بھی کہا تھا معلوم نہیں یہ چارٹ کس نے تیار کیا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا ‘بوگس ٹرسٹ ڈیڈز بنائی گئیں جس پر فاضل جج نے استفسار کیا کہ ‘کیا یہ ٹرسٹ ڈیڈز

وہاں پر رجسٹرڈ ہوئیں؟ اکرم قریشی نے جواب دیا یہ ٹرسٹ ڈیڈز صرف بھائیوں کو بتانے کی حد تک تھیں۔جسٹس میاں گل حسن نے کہا بھائی بھی تو نواز شریف کے بیٹے ہیں جب کہ جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا ‘آپ نے فرد جرم یہ عائد کی کہ یہ جائیداد نواز شریف کی ہے، آپ کی فرد جرم یہ نہیں ہے کہ مریم نواز مالک ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا ‘کیا اب مفروضے

پر فوجداری قانون میں سزا سنا دیں؟، یہ مفروضہ کہ جائیداد بچوں کے قبضے میں ہے لیکن ملکیت نواز شریف کی ہے، بظاہر احتساب عدالت کا فیصلہ مفروضے کی بنیاد پر ہے۔جسٹس میاں گل حسن نے استفسار کیا ‘دو طرح کی ملکیت ایک ہی وقت میں کیسے ہوسکتی ہے، یا وہ ظاہری مالک ہیں یا حقیقی مالک ہیں جس پر پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ مریم نواز نے معاونت کی ہے جس پر جسٹس میاں گل حسن

نے کہا ‘ اگر جائیداد نواز شریف کی ہے تو مریم نواز کو 9 اے 5 میں سزا کیسے ہوگئی۔جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا جسٹس میاں گل حسن کا سوال یہ ہے کہ دونوں کو ایک ہی فرد جرم میں تو سزا نہیں ہوسکتی، نواز شریف اور مریم نواز کو ایک ہی فرد جرم میں سزا کیسے سنا دی گئی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ‘بیٹی کو سیکشن 5 کے تحت سزا نہیں دی جانی چاہیے تھی،

کیا مریم کے اثاثے ان کے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا ‘جی ہاں۔اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میری اوپن ہارٹ سرجری ہوئی ہے، دو گھنٹے سے زائد کھڑا نہیں ہوسکتا، سماعت کل تک ملتوی کردیں، کل عدالت کی معاونت کردوں گا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ ایک گھنٹے میں دلائل دے دیں گے جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا میں کل

صرف 30 منٹ لوں گا جس پر جسٹس گل حسن نے کہا ہم آپ کو بیٹھنے کے لیے کرسی دے دیتے ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کرسی پر بیٹھے رہنے سے پاؤں پھر بھی وزن پڑتا ہے۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ہم پہلے ہی وقت ضائع کر چکے ہیں تاہم بیماری پر اعتراض نہیں کرسکتا۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ انتہائی اہم کیس ہے، آج ختم کردیتے تو اچھا ہوتا، اس کیس

کے لیے ہم پورا دن لیتے ہیں۔جسٹس گل حسن اورنگزیب نے نیب پراسیکیوٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہر چیز کی حد ہوتی ہے، آپ نے تحریری دلائل دے دیے ہیں، کل اگر آپ نہ بھی آئے تو ہم ان دلائل کی بنیاد پر فیصلہ سنادیں گے۔جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا ‘آپ نے بہت اچھے دلائل دے دیے ہیں، اگر آپ نہ بھی ہوئے تو جہانزیب بھروانہ دلائل دیں گے اور کل دلائل مکمل نہ ہوئے تو پھر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

موضوعات:



کالم



23 سال


قائداعظم محمد علی جناح 1930ء میں ہندوستانی مسلمانوں…

پاکستان کب ٹھیک ہو گا؟

’’پاکستان کب ٹھیک ہوگا‘‘ اس کے چہرے پر تشویش…

ٹھیک ہو جائے گا

اسلام آباد کے بلیو ایریا میں درجنوں اونچی عمارتیں…

دوبئی کا دوسرا پیغام

جولائی 2024ء میں بنگلہ دیش میں طالب علموں کی تحریک…

دوبئی کاپاکستان کے نام پیغام

شیخ محمد بن راشد المختوم نے جب دوبئی ڈویلپ کرنا…

آرٹ آف لیونگ

’’ہمارے دادا ہمیں سیب کے باغ میں لے جاتے تھے‘…

عمران خان ہماری جان

’’آپ ہمارے خان کے خلاف کیوں ہیں؟‘‘ وہ مسکرا…

عزت کو ترستا ہوا معاشرہ

اسلام آباد میں کرسٹیز کیفے کے نام سے ڈونٹس شاپ…

کنفیوژن

وراثت میں اسے پانچ لاکھ 18 ہزار چارسو طلائی سکے…

ملک کا واحد سیاست دان

میاں نواز شریف 2018ء کے الیکشن کے بعد خاموش ہو کر…

گیم آف تھرونز

گیم آف تھرونز دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے…