بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

’’جب نواز شریف نے حامد میر سے معافی مانگی‘‘ میاں صاحب جب وزیراعظم تھے تو بیگم کلثوم نواز کے کہنے پر مجھ سے معافی مانگی تھی کیونکہ۔۔۔۔ حامد میر کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 12  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف و سینئر صحافی حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے نے خاتون اول کلثوم نواز کے کہنے پر ان سے معافی مانگی تھی۔ معروف صحافی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب 1998ء میں میاں نواز شریف وزیراعظم تھے تو اس زمانے میں نواز شریف کے احتساب بیورو کے انچارج سینیٹر سیف الرحمان کچھ میڈیا ہاؤسز کو بہت تنگ کرتے تھے،

خاتون اول کلثوم نواز سینیٹر سیف الرحمان کی اس پالیسی کے مخالف تھیں اور اس چیز کی وہ مذمت کرتی تھیں۔ معروف صحافی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دفعہ سینیٹر سیف الرحمان نے ایک میڈیا ہاؤس کا نیوز پرنٹ بند کر دیا، معروف صحافی نے کہا کہ ان کے پاس اپنا اخبار چھاپنے کے لیے نیوز پرنٹ موجود نہیں تھا، اُس اخبار کے مالک نے مجھے فون کیا کہ ہمارا نیوز پرنٹ بند ہو گیا، ہمیں ادھار نیوز پرنٹ دے دیں، معروف صحافی نے کہا کہ میں نے انہیں نیوز پرنٹ دے دیا۔ میرا ایسا کرنے پر سینیٹر سیف الرحمان ناراض ہو گئے اور انہوں نے مجھے فون کرکے دھمکیاں دیں اور اسی رات انہوں نے میرے اخبار کی بجلی بند کروا دی، اس کے علاوہ ایف آئی اے کے ذریعے میرے دفتر پر حملہ بھی کروایا، جب یہ خبر خاتون اول کلثوم نواز تک پہنچی تو انہوں نے اپنے خاوند میاں نواز شریف سے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے سیف الرحمان کو اتنا اختیار دیا ہوا ہے کہ وہ کسی کی بھی پگڑی اچھال دیتا ہے، آپ حامد میر کو فون کرکے اسی وقت معافی مانگیں، معروف صحافی نے بتایا کہ میاں نواز شریف نے اس معاملے پر پہلو بچانے کی کوشش کی لیکن بیگم کلثوم نواز اپنی بات پر ڈٹ گئیں، وزیراعظم نواز شریف کو بیگم کلثوم نواز نے اصرار کرکے راضی کیا کہ وہ مجھے فون کریں۔ جب مجھے وزیراعظم نواز شریف نے فون کرکے معذرت کی تو میں بڑا حیران ہوا لیکن میں مجھے معلوم ہوا کہ اس کے پیچھے بیگم کلثوم نواز تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…