بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

ہم سب کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک میاں نواز شریف نے کہا کہ اگر چاول ہوتے تو مزا آجاتا ، بیگم کلثوم نواز کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور پھر۔۔ سابق خاتون اول کا ایسا واقعہ جو نواز شریف کو ہمیشہ یاد رہے گا

datetime 12  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی سینئر خاتون رہنما تہمینہ دولتانہ نے بیگم کلثوم نواز کو زبردست انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک نہایت مدبر اور روادار خاتون تھیں ، ان کی ساری زندگی اپنے شوہر کی خدمت سے عبارت ہے۔ اس موقع پر تہمینہ دولتانہ نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ شریف خاندان کی

سعودی عرب میں جلاوطنی کا دور تھا ، میں سعودی عرب میں شریف خاندان کی رہائشگاہ سرور پیلس میں ان سے ملنے کیلئے گئی ہوئی تھی ۔ کھانا ٹیبل پر لگ چکا تھا اور ہم سب کھانے کی میز پر موجود تھے کہ اسی دوران کھانا کھاتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ اس سالن کیساتھ اگر چاول ہوتے تو مزا آجاتا، تہمینہ دولتانہ کہتی ہیں کہ میاں نواز شریف نے جیسے ہی یہ بات کہی بیگم کلثوم نواز فوری طور پر کھانا چھوڑ کر کھڑی ہوگئیں اور فوری طور پر خود کچن میں گئیں اور اپنے ہاتھوں سے انہوں نے چاول ابالے اور میاں نواز شریف کو سرو کئے۔ تہمینہ دولتانہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد میاں نواز شریف کی خدمت کو بنا لیا تھا۔ ایک اور واقعہ سناتے ہوئے تہمینہ دولتانہ کا کہنا تھا کہ ایک سفر کے دوران ہمیں ساہیوال پہنچنا تھا اور اس دوران میرے ساتھ میرے شوہر اور بیگم کلثوم نواز بھی ہمراہ تھیں جنہوں نے ساہیوال سے لاہور اور میں نے وہاڑی چلے جانا تھا۔ ساہیوال میں ہم رکے اور کھانا کھانے لگے تو اس دوران مجھے میرے شوہر نے آواز دی ،میرے ساتھ بیگم کلثوم نواز بھی کھانا کھا رہی تھیں ، میں نے انہیں کہا کہ میں کچھ تھوڑا کھا لوں پھر اپنے شوہر کی بات سنتی ہوں جس پر بیگم کلثوم نے مجھے کہا کہ کھانا چھوڑو اور فوراََ اپنے شوہر کی بات سنو، وہ تمہارے کھانے سے زیادہ اہم ہے۔ تہمینہ دولتان کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز نے ہر جگہ ہماری رہنمائی کی چاہے وہ میدان سیاست ہو یا عام زندگی ان کی ساری زندگی بہترین اصولوں پر مبنی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…