بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

سی پیک منصوبے کو کتنے سال کیلئے روکا جارہاہے؟برطانوی اخبار کی خبر کے بعدمشیر تجارت عبد الرزاق داؤد نے بڑا اعلان کردیا

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق برطانوی اخبار کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔عبدالرزاق داؤد کا برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو سے متعلق وضاحتی بیان میں کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔

مشیر تجارت نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ کے دورے میں اسٹریٹیجک تعاون جاری رکھنے اور سی پیک منصوبوں کو پورا کرنے کے عزم کو دہرایا گیا اور اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کو آگاہ کیا گیا کہ سی پیک ہماری قومی ترجیح ہے ٗ چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے دونوں ممالک کے مفاد میں اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔مشیر تجارت نے کہا کہ پاک چین تعلقات ناقابل تسخیر ہیں اور دونوں ممالک میں راہداری منصوبے کے مستقبل سے متعلق مکمل یکسوئی ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ کے معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرِثانی پر غور کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ سابق حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں اپنی ذمے داری بخوبی نہیں نبھائی، تیاری کے بغیر مذاکرات اور معاہدے کرنے سے چین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا اور چینی کمپنیوں کو ٹیکس بریک اور دیگر مراعات دینے سے پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔رپورٹ کے مطابق عبدالرزاق داؤد نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ اپنے اْمور منظم کرنے تک ان معاہدوں پر فی الحال ایک سال کے لیے عملدرآمد روک دینا چاہیے اور سی پیک کی مدت کو مزید 5 سال کے لیے بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ

عبدالرزاق داؤد کی اس تجویز سے دیگر وزراء اور مشیر بھی متفق ہیں کہ منصوبوں کی تکمیل کی مدت اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانا معاہدے منسوخ کرنے سے بہتر آپشن ہوگاتاہم حکومت محتاط ہے کہ معاہدوں پر نظرثانی کے عمل میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چینی حکومت ناراض نہ ہو۔برطانوی اخبار کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان ملائشیا کی طرح اس معاملے کو ہینڈل نہیں کرنا چاہتا۔ ملائشیا نے چین کے تعاون سے جاری پائپ لائن پروجیکٹ بند کردئیے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ریل لنک معاہدے پر نظر ثانی کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…