ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

چین نے بھارت کے رحم و کرم پررہنے والے نیپال کیلئے ایسا اعلان کردیا کہ مودی حکومت ہکا بکا رہ گئی

datetime 7  ستمبر‬‮  2018 |

کھٹمنڈو( آن لائن ) چین نے نیپال کو اپنی 4 بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا،جو چاروں طرف سے خشکی سے گھرے ہونے کی وجہ تجارت کے لیے بھارت کے رحم و کرم پر ہے اور اس اجارہ داری کو ختم کرنا چاہتا ہے۔واضح رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان واقع نیپال ایندھن سمیت اپنی بنیادی ضرورت کی اشیا کی فراہمی کے لیے بھارت پر انحصار کرتا ہے ۔

دیگر ممالک سے تجارت کے لیے اس کی بندرگاہیں استعمال کرتا ہے۔لیکن اب کھٹمنڈو بھارت پر انحصار کم کرتے ہوئے چین کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل کرنے کا خواہش مند ہے کیوں کہ بھارت کے ساتھ منسلک سرحد پر سال 2015 سے 2016 سے جاری طویل ناکہ بندی سے ملک کو کئی ماہ سے ایندھن اور ادویات کی کمی کا سامنا ہے۔نیپال کی وزارت کامرس کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نیپال اور چین کے حکام نے کھٹمنڈو میں ہونے والے اجلاس کے دوران پروٹوکول کو حتمی شکل دی، جس کے تحت نیپال کو تیانجن، شینزین، لائینونگینگ، اور زنجیانگ کی بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ چین نے نیپال کو اپنی 3 زمینی بندرگاہیں اور سڑکیں استعمال کرنے کی اجازت دینے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا اور پروٹوکول پر دستخط ہونے کے بعد انتظامات کو عملی شکل دینے کا آغاز کردیا جائے گا۔اس ضمن میں نیپالی عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنگِ میل ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھارت کی 2 بندرگاہوں سمیت چین کی 4 بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہوجائے گی۔انہوں نے بتایا کہ جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان چین کے راستے سے لایا جاسکے گا جس سے وقت اور اخراجات میں کمی آئے گی۔دوسری جانب زمینی راستے سے آنے والا سامان زیادہ تر مشرقی بھارت میں واقع کولکتہ کے راستے لایا جاتا ہے جس میں 3 ماہ کا عرصہ لگ جاتا ہے۔

تاہم نئی دہلی نے اپنی جنوبی بندرگاہ وشاکاپٹنم بھی نیپالی تجارت کے لئے کھول دی تھی۔ادھر نیپالی تاجروں کا کہنا ہے کہ چین سے منسلک ہونے کا فیصلے میں بہتر سڑکیں اور کسٹم کا نظام نہ ہونے کے سبب دشواریاں پیش آسکتی ہیں، خیال رہے کہ نیپال کا نزدیک ترین چینی بندرگاہ سے فاصلہ 26 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…