ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے قرضوں کی اکٹھی ادائیگی کیلئے شاندار بندوبست وہ بھی صرف 17 دن میں، عمران خان نے ملک کی ایسی چیز بیچنے کا فیصلہ کر لیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 5  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے قرضوں کی اکٹھی ادائیگی کے لیے حکومت نے سرکاری افسروں کی بڑی بڑی کوٹھیوں کو نیلام کرکے کھربوں روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کوٹھیاں انگریز دور میں شہروں باہر بنائی گئی تھیں اور ان کے ساتھ بڑے بڑے باغ اور کاشت کاری کے لیے کئی ایکڑ زرعی زمینیں تھیں،

یہ کوٹھیاں اب شہری آبادیوں میں آ گئی ہیں اور ان زمینوں کی موجودہ قیمت کھربوں روپے میں بنتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے صوبائی حکومتوں کی وساطت سے محکمہ مال کے حکام کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ تمام کمشنرز، ڈی آئی جیز، ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز کی سرکاری رہائش گاہوں کے علاوہ سرکٹ ہاؤسز، ریسٹ ہاؤسز، گیسٹ ہاؤسز، ڈاک بنگلوں، کیمپ دفاتر اور دیگر سرکاری رہائش گاہوں کے بارے میں فوری طور پر رپورٹ بنا کر وزیراعظم ہاؤس بھیجیں۔ وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے یہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے ایک خصوصی پرفارما بھی تیار کیا گیا ہے، اس پرفارما میں افسران کے نام، سرکاری رہائش گاہ کی لوکیشن، موجودہ استعمال، کل رقبہ، زیر تعمیر رقبہ، کمروں کی تعداد، رہائش گاہ میں دستیاب سہولتوں کی فہرست، بلڈنگ کی حالت، سرکاری رہائش گاہ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی تعداد، سالانہ اخراجات اور افسروں کے سالانہ انکم ٹیکس کی تفصیلات درج کرنا بھی ضروری ہے، وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی ہدایت میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ صوبہ کے چیف سیکرٹری یہ رپورٹ اپنے دستخطوں کے ساتھ دیں گے، صوبے کا چیف سیکرٹری رپورٹ کے بارے میں سرٹیفکیٹ دے گا کہ یہ مکمل طور پر درست ہے۔  پاکستان کے قرضوں کی اکٹھی ادائیگی کے لیے حکومت نے سرکاری افسروں کی بڑی بڑی کوٹھیوں کو نیلام کرکے کھربوں روپے کا ریونیو اکٹھا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…