ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اعتزاز احسن صرف اسی صورت میں صدر پاکستان بن سکتے ہیں اگر۔۔۔!!!بڑا دعویٰ سامنے آگیا

datetime 2  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(اے این این ) پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان صدارتی الیکشن سے دستبردار ہو جائیں تو اعتزاز احسن جیت جائیں گے،صدارتی ووٹ مانگنے نواز شریف کے پاس جیل جانے کو بھی تیار تھے، ملاقات کی اجازت نہیں ملی ،سیاسی سفر میں معافیاں نہیں مانگی جاتیں اگر معافی مانگنے کی روایت چلی تو پیپلز پارٹی سے ہر جماعت کو معافی مانگنی پڑے گی۔

لاہور میں خورشید شاہ اور اعتراز احسن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے پرویز رشید کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی سفر میں معافیاں نہیں مانگی جاتیں اگر معافی مانگنے کی روایت چلی تو پیپلز پارٹی سے ہر جماعت کو معافی مانگنی پڑے گی۔اعتزاز احسن نے کہا کہ شہباز شریف کی خواہش تھی ہم نواز شریف سے مل لیں لیکن ملاقات نہ ہوسکی اور ہم اپنے امیدوار کے لیے ووٹ مانگنے جیل میں نواز شریف کے پاس جانے کو بھی تیار تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا تاہم اب اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ایشوز پر اکٹھے بھی ہوں گے، ہمیں صدارتی الیکشن لڑنا ہے اور لڑیں گے، کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان ہماری بات مان لیں اور وہ بات مان گئے تو ہم الیکشن جیت لیں گے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ صدارتی امیدوار اعتزاز احسن کے ساتھ لاہور آئے ہیں جہاں مختلف ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کریں گے، اعتزاز احسن سے بہتر صدارتی امیدوار نہیں ہوسکتا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ صدر کا عہدہ اب بڑے اختیارات کا حامل نہیں اور مولانا فضل الرحمان نے خفت مٹانے والی بات کی تاہم اعتزاز احسن کے صدر بننے سے اس عہدے کے اختیارات اہمیت اختیار کرجائیں گے اور اگر وہ صدر ہوں گے تو اس عہدے کو چار چاند لگ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اعتزاز احسن ہر دور کے آمر کے خلاف لڑے ہیں، توقع تھی سب اعتزاز احسن کے نام پر متفق ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش تھی کہ صدارتی انتخاب کے لیے اپوزیشن اتفاق سے ایک ہی امیدوار لاتی، ہماری اب بھی یہی کوشش ہوگی کہ مولانا فضل الرحمن کو دستبردار کروالیں، اس سلسلے میں ابھی مزید اراکین اسمبلی سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔پی پی رہنما نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ فضل الرحمن دستبردار ہوجائیں گے اور مسلم لیگ(ن) کو صدارتی انتخاب کے لیے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف جب امیدوار بنا بیٹھتی ہے تو پھر انہیں یاد آتا ہے

کہ ان سے غلطی ہو گئی۔اپوزیشن اتحاد سے متعلق سوال پر قمر الزمان کائرہ کا کہنا تھا کہ ہمارا اپوزیشن کا کوئی اتحاد نہیں ہے، صرف دھاندلی کے ایک نکتے پر ہم سب نے اتفاق کیا، تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ مستقبل میں ایشوز کے حوالے سے تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ کام کریں۔واضح رہے کہ صدارتی الیکشن 4 ستمبر کو ہوگا، اس حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کئی ملاقاتوں کے باوجود صدارتی امیدوار کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار رہا، جس کے بعد پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور معروف وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مولانا فضل الرحمن نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…