ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

’’انہیں کہیں اپنے جہاز میں آجائیں‘‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کوفوری طلب کر لیاکیونکہ۔۔بڑی خبر آگئی

datetime 30  اگست‬‮  2018 |

اسلام آ باد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق عبوری حکم نامہ جاری کردیا، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے اورنج لائن منصوبے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پروجیکٹ ڈائریکٹر عدالت پیش ہوئے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ

30 جولائی 2019 کو چلے گی۔چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ منصوبہ تاخیرکاشکارکیوں ہوا؟،پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ اورنج لائن منصوبہ 22 ماہ تک بندرہا،منصوبے کا 80 فیصدسول کام مکمل ہوچکا۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ نیسپاک اور چینی کمپنی سی ای سی منصوبے کے کنسلٹنٹ ہیں،کنسلٹنسی کی فیس 24 ملین ڈالرہے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ منصوبے کو ایگزیم بینک فنڈنگ کررہاہے،دیگرمتعلقہ منصوبے ایل ڈی اے کی زیرنگرانی چل رہے ہیں،پیکج ون،ٹو،تھری پرسول ورک 30 اکتوبرکومکمل ہوگااورسول ورک بعدالیکٹرومکینیکل ورک شروع ہوگا،ٹھیکیداروں کورقم کی ادائیگی تقریباًہوچکی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لگتاہے منصوبے کی رکاوٹیں ہمیں ہی دورکرناپڑیں گی،چیف جسٹس ثاقب نثارنے ٹھیکیداروں کوروسٹرم پربلالیااور استفسار کیا کہ میٹرو اتھارٹی کا سربراہ کون ہے ۔پروجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ میٹرواتھارٹی کے سربراہ وزیراعلیٰ ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب 4 بجے پیش ہوں،وزیراعلیٰ پنجاب سے کہیں اپنے جہاز پر آجائیں،رکاوٹیں دور کرنا سرکاری بابوؤں کا کام نہیں ۔اس پر سربراہ پراجیکٹ نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو نہ بلوائیں ہم فیصلہ کرلیں گے،منصوبہ مکمل ہونے میں 11 ماہ مزیدلگیں گے ،چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ 11 ماہ میں منصوبہ مکمل ہو گا۔

وکیل شاہد حامد نے کہا کہ ٹھیکیداروں کو 17 اپریل کے بعد کے بعد کوئی ادائیگی نہیں ہوئی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لگتا ہے منصوبے کی راہ رکاوٹیں عدالت نے دور کرنی ہے ۔چیف انجینئر ایل ڈی اے نے کہا کہ ایکنیک کی منظوری کے بعد منصوبے کی ادائیگیاں ممکن ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ کوشش کریں گے منصوبے 30 جولائی سے پہلے شروع کرائیں،تمام متعلقہ حکام ساتھ بیٹھ کر

مسئلہ حل کیوں نہیں کرتے،ہر محکمہ اپنا کام دوسرے پر ڈال رہا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کو منصوبے کی وجہ مشکلات کا سامنا ہے ،پراجیکٹ انچارج نے کہا کہ ستمبر کو عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف عوامی مفادمیں کیس سن رہی ہے، مستعفی ہونانہ ہونا آپ کی صوابدید ہے،چیف جسٹس نے سماعت دو بجے تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…