ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

وفاقی وزیر برائے مذہبی اْمور کا ہاتھ چوم کر پشاور ائیرپورٹ پر حجاج کرام کا استقبال، تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ،دل کھول کر تعریف

datetime 29  اگست‬‮  2018 |

پشاور(سی پی پی )حجاج کرام کی وطن واپسی کا مرحلہ شروع ہو گیا, اس سلسلے میں حجاج کرام کی پہلی پرواز کے ذریعے 252 حجاج کرام کو سعودی ایئر لائن کے ذریعہ باچا خان انٹر نیشنل ایئر پورٹ پشاور پہنچایا گیاجہاں وفاقی وزیر برائے مذہبی اْمورڈاکٹر محمد نورالحق قادری نے اْن کا استقبال کیا اور اْنہیں پھولوں کے ہار پہناکرحج کی مبارک باد دی۔

اس موقع پر جائنٹ سیکرٹری مذہی اْمور اور ڈپٹی ایئر پورٹ منیجر سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔۔ڈاکٹر محمد نورالحق قادری نے حجاج کرام کے ہاتھ چوم کر انہیں فریضہ حج ادا کرنے پر مبارکباد پیش کی اور تمام حجاج کو پھول بھی پیش کیے جب کہ ان کے مسائل بھی سنے،ڈاکٹر محمد نورالحق قادری نے جس انداز سے حجاج کرام کا استقبال کیا۔ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو گئی ہیں اور ان کے اس انداز کو خوب پسند کیا جا رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت حجاج کرام کے مسائل کو حل کرنا اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرتے ہیں کہ اس دفعہ کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنانہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ حجاج کرام کو بہترین سہولیات فراہم کریں، حجاج کرام کی خدمت ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے جسکا واضح ثبوت میرا یہا ں پر ذاتی طور پر موجود ہونا ہے۔انہوں نے کہاکہ وزارت مذہبی اْمور کی ویب سائٹ پر میں نے اپنا ای میل ایڈریس دیا ہے جس کسی کو بھی شکایت ہو تو بلا روک ٹوک اپنی شکایت درج کر سکتا ہے جس کا بروقت ازالہ کیاجائیگاکیونکہ عوام الناس کی جانب سے حجاج کرام کا احترام اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ عمل ہے۔اْنہوں نے سی اے اے ، ایف آئی اے اور اے ایس ایف کو ہدایت کی کہ وہ حجاج کرام اور انکے عزیر و اقارب سے عزت و احترام سے پیش آئیں اور اْن سے حج واپسی پر خندا پیشانی اور اچھے رویے کا اظہار کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…